وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان وسط ایشیا کو تجارت کیلئے اپنی بندرگاہوں کا راستہ فراہم کرسکتا ہے، قازقستان اپنی منصوعات گوادر اور کراچی پورٹ سے برآمد کر سکتا ہے۔
اسلام آباد میں پاکستان قازقستان مشترکہ بزنس فورم سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان موجودہ پچیس کروڑ ڈالر کے تجارتی حجم کو صلاحیت سے کم قرار دے دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نئے اہداف کے حصول کیلئے بھرپور کوشش کریں گے۔ آج ہم نے دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا۔
مہمان صدر نے اپنے دورے کو دوطرفہ تعاون میں اہم موڑ قرار دیا ۔ کہا دوطرفہ تعلقات کی تذویراتی شراکتداری میں تبدیلی اہم سنگ میل ہے، بزنس فورم میں 30 سے زائد تجارتی معاہدے ہوئے، آج کے بزنس فورم میں 200 میلن ڈالر کے معاہدے ہوئے۔ امید ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستان اور قازقستان اربوں ڈالر تجارت کی بات کر رہے ہوں گے۔
پاک قازقستان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے قیام کا اعلان
قبل ازیں صدر قازقستان قاسم جومارت توقایووف کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں دوطرفہ سیاسی، معاشی، دفاعی اور عوامی روابط بڑھانے پر اتفاق کرلیا گیا۔ پاک قازقستان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا۔
ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی شریک ہوئے۔ قازقستان کے کسی صدر کا 23 سال بعد یہ پہلا سرکاری دورہ پاکستان ہے۔ ملاقات میں پاکستان قازقستان بزنس فورم کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے نجی روابط بڑھانے پر زور دیا گیا۔ علاقائی رابطہ کاری،ٹرانسپورٹ اور ٹرانزٹ ٹریڈ تعاون پر اتفاق کیا گیا۔
پانچ سال کے دوطرفہ تجارتی روڈ میپ کے لیے ورکنگ کمیٹی بھی تشکیل دیدی گئی۔ وزیراعظم نے قازق صدر کے دورے کو دوطرفہ تعلقات میں تاریخی سنگ میل قرار دیا۔ تعلیم، ثقافت،سیاحت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، ملاقات کے بعد 37 ایم او یو اور معاہدوں پر دستخط ہوئے۔
ایم او یو اور معاہدوں پر دستخط
پاکستان اور قازقستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر ہوگئے۔
پاکستان اور قازقستان کے درمیان پیٹرولیم، صحت اور ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت کئی شعبوں میں تعاون پر اتفاق ہوگیا۔ قازقستان کے صدر کے دورہ پاکستان کے دوران 37 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوگئے۔ تجارتی اور اقتصادی شعبے میں تعاون کیلئے پانچ سالہ روڈ میپ تیار کیا جائےگا۔
دستخط کی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ اپنے بھائی صدرقاسم جومارت توکایووف اور ان کے وفدکاخیرمقدم کرتےہیں،یہ دورہ دونوں ملکوں کےتعلقات کونئی جہت دینےکےلیےبہت اہم ہے،قازقستان کےکسی صدرکا 23 سال بعد پاکستان کا یہ دورہ ہے،صدرقاسم جومارت توکایووف کےساتھ تعمیری اور مثبت گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم نے کہا پاکستان اور قازقستان مشترکہ کوششوں سے اقتصادی تجارتی تعاون کے اہداف حاصل کریں گے،مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کوعملی شکل دینے کیلئے پرعزم ہیں،دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالرتک لے جانےکا ہدف ہے۔
قازق صدر کو نشان پاکستان سے نوازا گیا
ایوان صدر میں قازق صدر کواعلیٰ ترین اعزاز دینے کی تقریب ہوئی۔ صدرمملکت آصف زرداری نے قازق ہم منصب کو نشان پاکستان سے نوازا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات بھی ہوئی۔ صدر آصف علی زرداری نے سیاسی، اقتصادی اور علاقائی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔ کہا پاکستان پائیدار ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کیلئے مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ دونوں ملکوں کے باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور علاقائی خوشحالی کے مشترکہ وژن پر مبنی تعلقات ہیں۔ حالیہ برسوں میں دو طرفہ تجارت میں اضافہ ہوا ۔ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے علاقائی روابط ضروری ہیں۔
صدر مملکت نے جنوبی ایشیا اور وسیع تر خطے میں استحکام کو فروغ دینے کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔ کہا علاقائی چیلنجز کا مقابلہ محاذ آرائی کی بجائے تعاون کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔
قازقستان کے صدر کے دورہ پاکستان کا اعلامیہ جاری
پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے، دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کی غیر قانونی تجارت سے نمٹنے کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ سائبر کرائم اور دیگر خطرات سے نمٹنے کیلئے بھی باقاعدہ تعاون کیا جائے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق صدر جومارت نے وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر 3 سے 4 فروری تک پاکستان کا سرکاری دورہ کیا ۔ قازق صدر کے 23 سال بعد دورہ پاکستان کا مقصد روایتی دوستانہ تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک لے جانا ہے۔ دونوں ممالک نے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی اشتراک پر مبنی برادرانہ تعلقات کی مسلسل بہتری کو سراہا۔
اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے یو این چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ باہمی مفاد کیلئے اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، جس میں سلامتی، دفاع، تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔
دونوں ممالک کے رہنماؤں نے سربراہانِ مملکت اور حکومتی سطح پر باقاعدہ دوروں پر اتفاق کیا ۔ نائب وزیراعظم اور وزرائے خارجہ کی سطح پر دو سالہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ دورے کے دوران پاکستان اور قازقستان کے درمیان علاقائی و بین الاقوامی سطح پر روابط میں اضافے کو سراہا گیا ہے ۔
دونوں ملکوں کی قیادت نے دوطرفہ تعلقات کے استحکام اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ باہمی فائدے کیلئے کثیر جہتی تعاون مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔





















