وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سے ملاقات میں کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی بلکہ صوبے کے مسائل پر بات ہوئی ہے۔
وزیراعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ این ایف سی اور دیگر واجبات سمیت صوبے کے تمام مسائل وزیراعظم کے سامنے رکھے۔ وزیراعظم نے وزیرمنصوبہ بندی کو آج ہی ہمارے مشیر خزانہ کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے اور مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ عوام اور صوبے کیلئے ملاقات کرنا مناسب سمجھا، آج کی ملاقات عہدےکا تقاضا تھا، وزیراعظم شہبازشریف نے دعوت دی تھی ان سے ملاقات ہوئی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ 26 ارب سابق فاٹا پرلگا چکے ہیں، تمام چیزیں حکومت کے سامنے رکھی ہیں۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پہلی باضابطہ ملاقات ہوئی ہے۔ قومی ترقی اور عوامی خدمت کیلئے وفاق اور صوبوں میں قریبی روابط ناگزیر قرار دیدیا گیا۔
وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں دونوں رہنماؤں کی پہلے ون آن ون اور پھر وفود کی سطح پر ملاقات میں وفاق اور صوبے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفود کی سطح پر ملاقات میں وفاق اور صوبے کے مابین امور پر گفتگو کی گئی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور مشیر خزانہ کے پی مزمل اسلم بھی شریک تھے۔
ملاقات میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وزیراعظم شہبازشریف کو صوبے کے مسائل اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر بریفنگ دی ۔ دہشتگردی کی روک تھام کیلئے اقدامات کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔






















