وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردوں کو لاکر بسانے کا فیصلہ فاش غلطی۔ ملک میں دہشت گردی بڑھنے کی وجہ یہی ہے۔ سب جانتے ہیں سوات سے سیکڑوں دہشتگردوں کو کس نے رہا کیا۔ دشمنوں کے ساتھ آواز ملاکر پاکستان کیخلاف زہر اگلا جاتا ہے۔
قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا کے شرکا سے خطاب وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دیں، خیبرپختونخوا پاکستان کا ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک صوبہ ہے، قومی سلامتی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ریاست دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 1018 میں دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کردیا گیا تھا، دہشتگردی کیخلاف آپریشن اجتماعی فیصلہ تھا، کیا وجہ ہے کہ دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا، سوات سے سیکڑوں دہشتگردوں کو کس نے رہا کیا؟ افغانستان سے ہزاروں لوگوں کو لاکر پاکستان میں کس نے بسایا؟ افغانستان سے لوگوں کو لاکر بسانا فاش غلطی تھی، خیبرپختونخوا میں پائیدار امن کا قیام ناگزیر ہوچکا۔ بہت اجلاس ہوئے لیکن افغان طالبان نے کوئی بات نہیں مانی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب ترقی کرتا ہے اور باقی صوبے نہیں کرتے تو یہ پاکستان کی ترقی نہیں، خیبرپختونخوا میں جو ترقی ہونی چاہیے تھی وہ نظر نہیں آتی، وفاق اور کے پی میں سرد جنگ کی بات حقیقت نہیں۔ معاشی ترقی کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کیخلاف جارحیت کی، پاکستان نے اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی، پاکستان نے بھارت کے 7 جہاز گرائے، افواج پاکستان نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جو قیامت تک یاد رکھے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ عوام اور سکیورٹی فورسز نے ملک کے امن اور سلامتی کیلئے تاریخی کردار ادا کیا، داخلی وخارجی سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے جامع حکمتِ عملی اپنائی جارہی ہے، حکومت سکیورٹی کے تمام اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے ساتھ کام کررہی ہے، ریاست دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔






















