بلوچستان میں انتظامی بنیادوں پر بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ جس کے تحت مختلف اضلاع اور ڈویژنز کی ازسرِنو ترتیب، نئے ڈویژنز کا قیام، اور بعض اضلاع کو ختم کرکے انہیں پرانے اضلاع میں ضم کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق کوہلو، بارکھان، قادر بگٹی آباد اور ڈیرہ بگٹی پر مشتمل نئے کوہ سلیمان ڈویژن کے قیام کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد علاقے میں انتظامی امور کو بہتر بنانا اور سہولیات تک عوام کی رسائی کو آسان کرنا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ قلات ڈویژن کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، اور قلات کے ساتھ نیا ڈویژن بیلا ڈویژن کے نام سے قائم ہوگا۔ اسی طرح پشین میں ایک نیا ضلع بنانے کی منظوری بھی دی جا چکی ہے جو انتظامی ضرورت کے تحت قائم کیا جائے گا۔
چمن، قلعہ عبداللہ اور پشین کے دونوں اضلاع کو ملا کر ایک نیا ڈویژن قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جس کے لیے ابتدائی ورکنگ مکمل کی جا چکی ہے، ذرائع کے مطابق مکران ڈویژن میں بھی نئے اضلاع کے قیام اور اس ڈویژن کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
دوسری جانب جھل مگسی اور بولان اضلاع کو نصیر آباد ڈویژن سے نکال کر سبی ڈویژن میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ ہرنائی بدستور سبی ڈویژن کا حصہ رہے گا۔ زیارت کو سبی کے بجائے لورالائی ڈویژن میں شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت نے شیرانی اور سوراب اضلاع کو ختم کرکے انہیں ان کے پرانے اضلاع میں ضم کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے، اور اس سلسلے میں متعلقہ محکموں نے ورکنگ مکمل کر لی ہے۔ تمام فیصلوں کو حتمی شکل دینے کے لیے یہ تجاویز وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت ہونے والے آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی جہاں ان پر آخری منظوری دی جائے گی۔





















