ویکسین دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں سپر فلو وائرس کا خطرہ بڑھ گیا۔
سپر فلو کا معاملہ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پہنچ گیا، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی اجلاس میں کمیٹی کنوینر شاہدہ اختر نے کہا کہ پارلیمنٹ کی ڈسپنسری میں بھی فلو اور الرجی کی ادویات دستیاب نہیں ہیں، پاکستان میں سپر فلو وائرس کے حوالے سے بڑی شکایات آرہی ہیں۔
حکام وزارت صحت نے کہا کہ عالمی سطح پر ابھی تک سپر فلو کی تشخیص اور ویکسین دستیاب نہیں ہوسکی، وباء پھیلنے کی ایک بڑی وجہ فضائی آلودگی بھی ہے، شہری ماسک کی پابندی سمیت احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ سپر فلو کے حوالے سے نئی ویکسین کا انتظار ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ بیرون ملک سے کوئی بھی ویکسین لگوائیں تو مؤثر ہوتی ہے، پاکستان والی ویکسین مؤثر نہیں ہوتی ہے، جب تک کسی وبا سے متعلق تحقیق آتی ہے پانی سر سے گزر جاتا ہے۔
حکام نے شرکاء کو بتایا کہ ہر سال وائرس کا ویریئنٹ تبدیل ہورہا ہے، سپر فلو کے ساتھ ایک اور وائرس بھی چل رہا ہے، ان دنوں شمالی علاقوں میں یہ وائرس زیادہ ہے، یہ فلو نومبر سے مارچ تک ہوتا ہے۔






















