بلوچستان میں 2025 میں عام شہریوں، پولیس اور ایف سی سمیت سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ گزشتہ بارہ ماہ کے دوران 202 اہلکاروں سمیت 442 افراد نے جام شہادت نوش کیا۔
سال 2025 بھی بلوچستان میں پولیس، ایف سی اور شہریوں کیلئے کڑا امتحان ثابت ہوا ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 202 اہلکاروں اور 280 افراد کو خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بنایا گیا۔
رواں سال 11 مارچ کو بولان کے علاقے میں دہشتگردوں نے جعفرایکسپریس پر حملہ کیا اور مسافروں کو یرغمال بنالیا۔ دہشتگردی کے بڑے واقعے میں 26 مسافر شہید اور 35 سے زائد زخمی ہوئے۔
زیرجائزہ عرصے کے دوران کوئٹہ پنجاب اور کراچی شاہراہوں پر دہشتگردی کے تین بڑے واقعات بھی ہوئے۔ 18 فروری کو کوئٹہ سے پنجاب جانے والی مسافر کوچ کو بارکھان کے علاقے رڑکن میں دہشتگردوں نے شناخت کے بعد 7 مسافروں کو قتل کردیا ۔ 10 جولائی کو ژوب کے علاقے سرہ ڈھاکہ میں مسافرکوچ سے اتار کر 9 مسافروں کو قتل کیا گیا۔
رواں سال 16 جولائی کو کوئٹہ کراچی پر قلات کے علاقے نیمرغ میں صابری قوال گروپ کی کوچ پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں باپ بیٹا سمیت تین قوال جاں بحق اور 13 زخمی ہوئے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی پرامید ہیں کہ نئے سال میں صوبے کے حالات میں بہتری آئی گی۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق رواں برس بلوچستان بھر میں 78 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، آپریشنز میں 707 دہشت گرد مارے گے۔






















