وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے سماء نیوز کے پروگرام ’’ ندیم ملک لائیو‘‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قانون قیدی سے وکلا،فیملی کی ملاقات کی اجازت دیتا ہے، ایساقانون نہیں جو اجازت دے قیدی حکومت،ریاست کیخلاف تحریک چلائے، کوئی قانون کسی قیدی کو جلاؤ گھیراؤ اور تحریک کی اجازت نہیں دیتا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر پابندی جیل حکام نے ہی لگائی ہو گی۔
تفصیلات کے مطابق راناثنااللہ نے کہا کہ جیل حکام نے رپورٹ کیا ہو گا کہ یہاں ایسی گفتگو ہوتی ہے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر کس نےپابندی لگائی،میرے علم میں نہیں، بانی پی ٹی آئی نے سیاست کا بٹھہ بٹھا دیا،وہ نفرت اور گالم گلوچ لائے، پہلے سیاست میں ایسے حالات نہیں تھے،بانی پی ٹی آئی نے جو رویہ اختیار کیا کسی نے اختیار نہیں کیا، جماعت اسلامی نے اسلام آباد میں فلسطین مارچ کیا،اجازت دی گئی، ایک اور مذہبی سیاسی جماعت اسلام آبادآناچاہتی تھی،اس کو روکا گیا۔
انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نے بات چیت اور میثاق استحکام پاکستان کی دعوت دی، تحریک انصاف کو بات چیت کی دعوت دی گئی،بیٹھیں گے تو ماحول بنے گا،تحریک انصاف بیٹھے اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے ہی شروع کرے، وزیراعظم نے ایوان میں کہا ہر مسئلے پر بات چیت کیلئے تیار ہیں، بانی پی ٹی آئی اڈیالہ جیل میں ہیں، ان کی صحت ٹھیک ہے، انہیں جیل میں تمام سہولیات حاصل ہیں اور وہ خیرو عافیت سے ہیں ۔
ان کا کہناتھا کہ 26نومبر کو ہم نے کچھ نہیں کیا، پچھلے سال 26 نومبر کو پی ٹی آئی کو سنگجانی جانے کی دعوت دی تھی، کوئی شخص میرے گھر پر بندوق لے کرآئے تو میں اپنا دفاع نہ کروں؟ کوئی اسلام آباد پر حملہ آور ہو تو قانون نافذ کرنے والے ادارے کچھ نہ کریں؟ کوئی بندہ قانون نافذ کرنیوالوں پر گولیاں چلائے گا تو کوئی پھول نہیں برسائے گا، 26 نومبر احتجاج،تحریک انصاف کے کارکنان کے پاس بے پناہ اسلحہ تھا، کوئی بندہ قانون نافذ کرنیوالوں پر گولیاں چلائے گا تو کوئی پھول نہیں برسائے گا، محمود اچکزئی حکومت کے ساتھ بیٹھے تو پی ٹی آئی انہیں چلتا کرے گی۔






















