بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے وزیراعلٰی خیبرپختونخوا اڈیالہ جیل پہنچے لیکن پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے پر روک دیا، سہیل آفریدی نے وہیں دھرنا دے دیا۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے دن وزیراعلٰی خیبرپختونخوا اپنے قائد سے ملنے کے لیے اڈیالہ جیل کے قریب پہنچے تاہم پولیس نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہ دی۔ سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کی طرف مارچ کیا، پنجاب پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روکا تو وہ فیکٹری ناکہ پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔
ایم این اے شاہد خٹک، ممبرصوبائی اسمبلی مینا خان آفریدی اور دیگر رہنما بھی ان کےساتھ موجود ہیں۔ اڈیالہ روڈ پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس کی اضافی نفری داہگل اور گورکھپور ناکے پر بھی تعینات ہے۔
سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبعیت ناسازی کی خبریں گردش کررہی ہیں، جو خبریں یا افواہیں آرہی ہیں اسے تشویش بڑھ رہی ہے، ہم چاہتے ہیں آج ملاقات ہو یہ تشویش بھی ختم ہو، تشویش بڑھے گی تو پوری قوم سڑکوں پرآئےگی، چاہتے ہیں بانی سے ملاقات کریں ان کی صحت کی دریافت کریں، ابھی ہم یہاں بیٹھےہیں،ملاقات نہیں دی تو سوچیں گےکیا کرنا ہے ۔
سہیل آفریدی کا کہناتھا کہ بانی سے ملاقات کیلئے ہم نے تمام قانونی و جمہوری راستے اپنائے ہیں، میں دھرنے میں آنا چاہتا تھا بانی کی بہنوں نے منع کیا، بانی کی ہدایت پر حکومت سے مذاکرات ہوئے لیکن انکے پاس کوئی اختیار نہیں، ملک میں 8 فروری کو جو ہوا ،وہی 23 نومبر کو بھی ہوا، یہ سمجھتے ہیں عوام کا جمہوریت پر سے بھروسہ آٹھ جائےگا، حالیہ ضمنی انتخاب میں 95 فیصد لوگ ووٹ دینے نہیں نکلے، پنجاب کی عوام نے ووٹ نہ دے کر بانی سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے پی کے کا کہناتھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر ہمارے خدشات بڑھ رہے ہیں، ہمارے پاس آخری راستہ بھی اس پر غور کیا جارہا ہے، میں نے کسی سے مذاکرات کا نہیں کہا کیونکہ انکے پاس مینڈیٹ ہی نہیں، آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت کے خلاف چارج شیٹ پیش کی ہے، انہوں نے پانچ ہزار 300 ارب کھائے ،ڈھکار بھی نہیں مارا۔
انہوں نے کہا کہ سوال ان سے بھی ہوگا جنہوں نے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا، این ایف سی میں اپنے صوبے کا مقدمہ لڑوں گا شرکت کروں گا، حکومت نے 4 مرتبہ ایف ایف سی اجلاس ملتوی کیا ہے۔






















