پشاور ہائیکورٹ نے احتجاجی ریلیوں، لانگ مارچ اور سیاسی جلسوں میں سرکاری مشینری اور وسائل کے استعمال کے خلاف کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ کی جانب سے چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری ہوا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں صوبائی حکومت سمیت تمام فریقین کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی سیاسی سرگرمی، جلسے یا لانگ مارچ میں سرکاری وسائل کا استعمال نہ کیا جائے۔ فیصلے کے مطابق سرکاری مشینری اور وسائل کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔
فیصلے میں درخواست گزار کا مؤقف شامل کرتے ہوئے کہا گیا کہ صوبائی حکومت مبینہ طور پر جلسوں اور ملین مارچوں میں سرکاری وسائل کا استعمال کرتی رہی ہے، جبکہ وکیل درخواست گزار نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ایک مبینہ لانگ مارچ کے دوران کچھ سرکاری مشینری اسلام آباد میں پکڑی گئی تھی۔
پشاور ہائیکورٹ نے سرکاری مشینری کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی اور واضح کر دیا کہ سرکاری وسائل صرف عوامی خدمت کے لیے ہیں، کسی بھی سیاسی سرگرمی کے لیے نہیں۔ مزید سرکاری عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کے لیے تیار رہیں۔






















