خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے منعقدہ امن جرگے کا 15 نکاتی متفقہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔جرگے کی صدارت اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے کی، جس میں وزیراعلیٰ، گورنر، سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔
اعلامیے کے مطابق جرگے کے شرکاء نے صوبائی ایکشن پلان مرتب کرنے کی منظوری دی اور اتفاق کیا کہ آئندہ امن پالیسی صوبائی سطح پر طے کی جائے گی۔
جرگے نے مطالبہ کیا کہ صوبے بھر میں چیک پوسٹیں ختم کی جائیں اور داخلی سیکیورٹی کی ذمہ داری پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے حوالے کی جائے۔
مزید برآں، سیکیورٹی اداروں کی کارروائیوں پر اراکین اسمبلی کو ان کیمرہ بریفنگ دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
جرگے نے تجویز دی کہ امن سے متعلق فیصلوں پر عمل درآمد سے قبل انہیں صوبائی سیکیورٹی کمیٹی کے سامنے رکھا جائے تاکہ تمام ادارے باہمی مشاورت سے پالیسی پر عملدرآمد کر سکیں۔
اعلامیے میں یہ بھی طے پایا کہ امن جرگے کی سفارشات وفاقی حکومت کو ارسال کی جائیں گی تاکہ قومی سطح پر بھی ان تجاویز کو شامل کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، جرگے کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی قوتیں اور قبائلی نمائندے خیبرپختونخوا میں امن کے قیام اور عوام کے تحفظ کے لیے متحد رہیں گے۔






















