اسرائیل کی جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی شروع کردی۔ رفح میں فائرنگ کے مبینہ واقعہ کا بہانہ بناکر صیہونی فوج کی غزہ کے مختلف علاقوں میں وحشیانہ بمباری کی۔ جس سے 11 بچوں سمیت 31 فلسطینی شہید جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔
اسرائیلی فوج نے نیتن یاہو کی شدید حملوں کی ہدایت پروحشیانہ کارروائی شروع کی ۔ دیرالبلاح، خان یونس، رفح اور نصیرات کیمپ میں جنگی طیاروں نے بم برسائے۔ الشفا اسپتال کے قریبی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔ صیہونی فوج نے یلولائن سے آگے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنا شروع کردیا۔
دوسری طرف حماس نے اسرائیلی جارحیت کےبعد یرغمالی کی لاش کی واپسی کا فیصلہ مؤخر کردیا جبکہ مزید دو یرغمالیوں کی لاشیں بھی تلاش کرلی گئیں ۔ ترکیہ نے اسرائیلی حملوں میں معصوم شہریوں کے جانےنقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔ حملے بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
امریکی صدر ایک بار پھر اسرائیل کی حمایت میں آگئے۔ ٹوکیو سے سیئول روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیل کو حماس کے خلاف جوابی کارروائی کا حق ہے اگر وہ مناسب رویہ اپنائےتو ٹھیک ورنہ اسے ختم کر دیا جائے گا۔ حماس مشرقِ وسطیٰ امن معاہدے کا ایک چھوٹا حصہ ہے۔






















