ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے کراچی کے درخشاں تھانے میں کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا افتتاح کر دیاہے، درخشاں پولیس اسٹیشن میں 250 کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کی جائیگی، ڈی ایچ اے کے 4 تھانوں میں لگائے گئے کیمروں کی تعداد 700 ہو گئی، تقریب میں پولیس کے اعلیٰ افسران کے ساتھ تاجروں نے بھی شرکت کی۔
کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن 16تھانوں میں کرائم سب سے زیادہ تھے وہاں کیمرے لگے ہیں، کیمروں سے جرائم کی شرح میں فرق آنا شروع ہو گیا ہے، گزشتہ برس کے مقابلے کرائم 24 فیصد کم ہے، پرتشدد واقعات میں بھی 45 فیصد کمی سامنےآئی ہے، بزنس کمیونٹی کے تعاون کے بغیر منصوبے نا مکمل رہتے ہیں، پوری ٹیم پنجاب گئی تھی ان کا سسٹم پرانا ہے، ہمارا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم گیم چینجر ثابت ہو گا، سی سی ٹی وی کیمروں کو اےآئی سےآپریٹ کیا جائیگا۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے ٹیکس کا ایک پیسہ بھی نہیں لگا اور اتنا بڑا سسٹم لگا دیا، کمیونٹی پولیسنگ اور انکے ساتھ دیگر لوگوں کا شکریہ، آج کل کی ماڈرن پولیسنگ ممکن ہی نہیں ہے، آج اتنے لوگ شہر میں آتے ہیں کہ ایس ایچ او کو سب پتا نہیں، دنیاکے تمام ترقیاتی یافتہ ممالک میں کیمرے موجود ہیں، پنجاب کا سسٹم 10 سال پرانا ہے اس کو وہ بہت آگے لے گئے ہیں، ابھی تک 16 تھانوں میں کیمرے لگ چکے ہیں۔
کراچی پولیس چیف نے نوجوان عرفان کی ہلاکت کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لڑکے موبائل فون سے تصاویر بناتے ہوئے دیکھے گئے تھے، ضابطہ کے مطابق مجسٹریٹ کی نگرانی میں لاش کا معائنہ کیا گیا، مرنے والے لڑکے کے جسم پر کوئی نشانات نہیں پائے گئے۔






















