پنجاب پولیس نے سوشل میڈیا پر انتشار پھیلانے والے افراد کیخلاف کریک ڈاون شروع کردیا۔ رات گئے مختلف شہروں سے 39 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق کارروائیاں لاہور، قصور، کامونکی، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ میں کی گئیں، گرفتاریوں کا عمل مکمل کرکے قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس ذرائع کے مطابق مزید87 افراد کے واٹس ایپ اور فیس بک اکاونٹس ٹریس کر لیے گئے، مجموعی طور پر 200 سے زائد افراد کی فہرست مرتب کی جا چکی ہے۔
قبل ازیں مریدکے ، راولپنڈی اور بورےوالا میں مذہبی جماعت کے پرتشدد احتجاج میں ملوث کارکنوں اور مرکزی رہنماؤں کیخلاف دہشت گردی سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔
راولپنڈی کے تھانہ روات میں مذہبی جماعت کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مقدمے میں سعد رضوی اور قاری بلال سمیت 21 رہنما و کارکنان پر سنگین الزامات عائد کیے گئے۔ مقدمہ سب انسپکٹر نجیب اللہ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
مقدمے میں دہشت گردی، اقدام قتل، ڈکیتی، پولیس پر فائرنگ اور عوام کو اکسانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔چک بیلی روڈ جٹھہ ہتھیال میں احتجاج کے دوران کارکنان پر سڑک بلاک کرنے، مزاحمت اور اسلحہ چھیننے کے الزامات لگائے گئے۔ مقدمے کے متن کے مطابق مظاہرین کلاشنکوف، پیٹرول بموں اور کیل والے ڈنڈوں سے مسلح تھے۔پولیس کو دیکھتے ہی مظاہرین نے سیدھی فائرنگ شروع کردی۔ایک گولی کانسٹیبل عدنان کو لگی مگر وہ بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے محفوظ رہا۔
بورےوالا میں مذہبی جماعت اور پولیس کے درمیان تصادم کےنتیجےمیں ڈی ایس پی سمیت 8 اہلکاروں کے زخمی ہونے کے مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مقدمہ میں دہشت گردی اور اقدامِ قتل سمیت دیگرسنگین دفعات شامل کی گئی ہے۔ مقدمہ تھانہ صدر بورے والا میں درج کیا گیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ تھانہ صدر میں سب انسپکٹر خلیل احمد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں مذہبی جماعت کے چودہ نامزد اور دو سو نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے ۔ مقدمے میں دہشت گردی، اقدامِ قتل اور دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں ۔ زخمی اہلکاروں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا تھا جو وہاں زیر علاج ہیں جبکہ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔
قبل ازیں مریدکے میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر حملے کا مقدمہ پولیس نے قیادت سمیت کارکنوں کیخلاف سنگین دفعات کے تحت درج کرلیا۔
تھانہ مریدکے سٹی میں ٹی ایل پی قائدین اور کارکنوں کیخلاف درج مقدمے میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، اغوا اور ڈکیتی سمیت 32 دفعات شامل کی گئی ہیں۔ پولیس نے مریدکے میں تعینات سب انسپکٹر محمد افضل کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا۔
ایف آئی آر میں امیر ٹی ایل پی سعد رضوی، انس رضوی سمیت علامہ فاروق الحسن، مولانا سجاد سیفی، مفتی وزیرعلی سمیت کارکنوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینےوالے شرپسندوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں۔






















