پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے سماء نیوز کے پروگرام ’ ندیم ملک لائیو‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علی امین کےحوالے سے پی ٹی آئی میں بحث ہورہی تھی، علی امین کی لڑائی2،4مہینے پہلے سے شروع ہوگئی تھی۔
تفصیلات کے مطابق قمر زمان کائرہ کا کہناتھا کہ سب کی رائے ہے بانی پی ٹی آئی کےفیصلوں کی سمجھ نہیں آتی، علی امین کےخلاف سازشیں ہورہی تھیں تو بانی پی ٹی آئی ساتھ کھڑےتھے، علیمہ خان سے اختلاف ہوا تو علی امین فارغ ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کی لڑائی لڑتے لڑتے وزیراعلیٰ بنادیا کیا ان کاتجربہ ہے؟ کیا سہیل آفریدی چیزوں کو بہتر طریقے سے ہینڈل کرسکیں گے؟ ابھی علی امین کا استعفیٰ نہیں آیا، جماعتیں کےپی میں حکومت بنانے پر مشاورت تو کریں گی۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہر دور میں افغانستان کےساتھ بات چیت کی گئی، کیاکسی طالبان کے نمائندے نے مذاکرات کے ذریعے ہتھیار پھینکنے کی کوشش کی؟ افغانستان،فتنہ الخوارج ایک تھے،یہ ملکر لڑے اور فتح حاصل کر کے حکومت حاصل کی۔
بیرسٹر عقیل
بیرسٹر عقیل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے افغانستان کو کہا اپنی سر زمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، بات چیت کر کے دیکھ لی،آپریشن نہ کریں تو کیا کریں؟ بانی پی ٹی آئی نے جیل سے کہا وفاق سے کسی قسم کا تعاون نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ کیا بانی پی ٹی آئی پاکستان کاحصہ ہوتے ہوئے ملک کے ساتھ نہیں چلیں گے، اڈیالہ سے جو بیان جاری ہوا،یہ ملک کے خلاف ہے، کےپی میں پی ٹی آئی کی حکومت بنے گی یا نہیں،یہ کہنا قبل ازوقت ہے، سہیل آفریدی پر بہت سے مقدمات ہیں،این سی سی آئی کابھی مقدمہ ہے۔




















