جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کاکہنا ہے کہ پاکستان میں کسی کو اسرائیل تسلیم کرنے کا سوچنا بھی نہیں چاہئے۔ دو ریاستی حل دراصل اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے، فلسطین اور حماس کو شامل کیے بغیر کوئی فیصلہ قبول نہیں ہوگا۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ سنجیدہ ہیں توبیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ کے قیام کا فیصلہ واپس لیں، جو نیویارک میں ہورہاہےاسےعوام کی پذیرائی حاصل نہیں ہے۔ حماس کو اصل فریق مانے بغیر فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا، ڈونلڈ ٹرمپ کا فارمولابیت المقدس کی آزادی کا فارمولا نہیں ہوسکتا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب تک فلسطینی عوام کوکوئی حل قبول نہیں،اس وقت تک ان پر کوئی فیصلہ نہیں تھونپا جاسکتا، امریکہ نیتن یاہو کی سرپرستی کررہاہے، امریکہ کویہی کہیں گےکہ وہ انتہاپسندی کی حمایت نہ کرے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ غزہ میں بے گناہ انسانوں کو شہید کیاجارہا ہے، کمزورموقف کیساتھ عرب دنیاشکست کھا جائے گی، مسلمان ممالک کوایک ہونےکی ضرورت ہے۔






















