پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ 1957 میں اس وقت کے وزیراعظم نے بیرون ملک سے ملنے والے اصل تحائف اپنے پاس رکھ کر مارکیٹ سے نقلی تحائف خرید کر توشہ خانہ میں رکھوائے۔
نوید قمر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سیکرٹری کابینہ کامران علی افضل نے کمیٹی کو بتایا کہ کابینہ ڈویژن کے پاس 1997 سے پہلے کا توشہ خانہ کا ریکارڈ غائب ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام ریکارڈ کی چھان بین کی گئی لیکن 1997 سے پہلے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ آرکائیو سے پرانا ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سیکرٹری کابینہ نے انکشاف کیا کہ ماضی میں بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کے بارے میں کابینہ کو آگاہ ہی نہیں کیا جاتا تھا۔
انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی ملک سے ملنے والے تحائف براہ راست رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ توشہ خانہ کے قوانین میں بہتری کے لیے تجاویز وزیراعظم آفس کو ارسال کر دی گئی ہیں اورنئے ایکٹ کے مطابق توشہ خانہ میں آنے والی ہر چیز کی نیلامی لازمی ہوگی جس سے شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔
سیکرٹری کابینہ نے کہا کہ اس سلسلے میں قانون سازی پر کام جاری ہے۔






















