پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم کے 1011 لیپ ٹاپ غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے، ان میں سے 784 لیپ ٹاپ بعد میں ریکور کر لئے گئے جبکہ 227 تاحال لاپتہ ہیں ۔ اسکیم کے 89 لیپ ٹاپ چوری بھی ہو گئے ۔
آڈٹ حکام نے ذیلی کمیٹی کو بتایا لیپ ٹاپ اسکیم میں بے ضابطگیوں کے باعث قومی خزانے کو ایک کروڑ 19 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ چوری شدہ لیپ ٹاپ کی مد میں 11 لاکھ روپے ریکور ہوئے لیکن خزانے میں جمع نہیں کرائے گئے ۔ کمیٹی نے تحقیقات تیز کرنے اور ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کر دی ۔
اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد میں 544 غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں۔ آڈٹ حکام کے مطابق ان بھرتیوں میں قوانین کو نظرانداز کیا گیا اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے منظوری بھی نہیں لی گئی ۔ کمیٹی نے غیرقانونی بھرتیوں کی انکوائری کا حکم دیا اور ملوث افسران کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی ۔ یونیورسٹی آف بلتستان کے وائس چانسلر کو غیرمجاز الاؤنس کی مد میں 46 لاکھ روپے کی ادائیگی پر بھی بحث ۔ ڈی اے سی نے ہدایت کی کہ ادائیگی کی پندرہ روز میں صدرِ پاکستان سے منظوری لی جائے یا رقم وائس چانسلر سے واپس وصول کی جائے ۔






















