وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان ریلوے کے 87 فیصد ٹریک زائد المیعاد ہو چکے ہیں جس سے حفاظتی خطرات اور آپریشنل تاخیر میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیر ریلوے حنیف عباسی کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ تحریری جواب کے مطابق ایم ایل-2 ریلوے ٹریک کا 88 فیصد، ایم ایل-3 ٹریک کا 991 کلومیٹر میں سے 92 فیصد، اور 3840 کلومیٹر طویل برانچ لائنوں کا 98 فیصد حصہ زائد المیعاد ہے۔
جواب میں بتایا گیا کہ ریلوے ٹریک کے بنیادی ڈھانچے کی حالت غیر تسلی بخش ہے جبکہ سگنل انفراسٹرکچر بھی آلات کی چوری اور ماحولیاتی خطرات کی وجہ سے غیر محفوظ ہے جو آپریشنل تاخیر اور حفاظتی مسائل کا باعث بن رہا ہے۔
حفاظتی اقدامات کے طور پر ٹریک پر ٹرینوں کی رفتار کم کر دی گئی ہے۔
مزید برآں، پاکستان ریلوے کے پاس موجود 1634 مسافر کوچز میں سے 1183 کی معیاد پوری ہو چکی ہے جبکہ 439 ڈیزل الیکٹرک لوکوموٹو میں سے 233 انجن بھی زائد المیعاد ہو چکے ہیں۔






















