وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بحریہ ٹاؤن میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف آئی اے کو ایک ارب 12 کروڑ روپے کی غیرقانونی رقوم کے ثبوت ملے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو میں عطا تارڑ نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن کرپشن کیس میں منگل کے روز کی کارروائی کے دوران اہم دستاویزات قبضے میں لی گئیں، ایف آئی اے کے چھاپے سے قبل ریکارڈ جلانے کی کوشش کی گئی تاہم ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے بچا لیا۔
عطا اللہ تارڑ نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی غیرقانونی کام نہیں تھا تو ریکارڈ جلانے کی کیا ضرورت تھی؟۔
وفاقی وزیر کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سفاری اسپتال کو بطور فرنٹ آفس استعمال کیا جا رہا تھا جبکہ اسپتال کی ایمبولینس میں منی لانڈرنگ سے متعلقہ دستاویزات کی ترسیل کی جاتی رہی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کے حوالے سے اہم بیان
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) August 6, 2025
ایف آئی اے نے کامیاب کاروائی میں بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کی ایک ارب 12 کروڑ کی منی لانڈرنگ، ہنڈی حوالہ نیٹ ورک اور سفاری ہسپتال کو فرنٹ آفس بنانے کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کر لیے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن کے… pic.twitter.com/yT2MMD3ZRj
انہوں نے کہا کہ مزید فرانزک تحقیقات کے بعد بڑی رقوم کی تفصیلات بھی سامنے آئیں گی۔
لازمی پڑھیں۔ ایف آئی اے کا بحریہ ٹاؤن کے فنانشل ریکارڈ اور ادائیگیوں کی فائلز کی ریکوری کیلئے چھاپہ
عطا تارڑ نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے اربوں روپے ملک سے باہر منتقل کیے گئے جس سے قومی معیشت کو شدید نقصان پہنچا، یہ ایک میگا کرپشن اسکینڈل ہے اور اس میں ملوث افراد کو قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔
انہوں نے ملک ریاض اور ان کے ساتھیوں کو مشورہ دیا کہ وہ خود کو قانون کے حوالے کریں ورنہ ریاستی ادارے سخت کارروائی کریں گے۔
عطا تارڑ نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں کے حقوق ہر صورت محفوظ رہیں گے اور کارروائی صرف ملزمان کے خلاف ہو گی۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ میگا کرپشن اسکینڈل کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے تاکہ قوم کو اصل صورتحال سے آگاہ رکھا جا سکے۔






















