خیبرپختونخوا کے محکمہ لائیو اسٹاک میں اثاثوں کی مبینہ خرد برد کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے اور سال 2023-24 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ لائیو اسٹاک کی 80 سرکاری گاڑیاں غائب ہو چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سال 2007 سے 2021 کے درمیان مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 200 سے زائد گاڑیاں خریدی گئیں لیکن آڈٹ کے دوران 80 گاڑیوں کا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا جا سکا۔
دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ یہ گاڑیاں محکمہ ایکسائز کے ریکارڈ میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لائیو اسٹاک کے نام پر رجسٹرڈ ہیں تاہم فیلڈ اور دفاتر میں ان کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
آڈٹ رپورٹ نے محکمے کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے غائب گاڑیوں کی تلاش اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے سخت سفارشات پیش کی ہیں۔
صوبائی وزیر لائیو اسٹاک فضل حکیم نے بتایا کہ گاڑیوں کی بازیابی کے لیے متعلقہ حکام کو خطوط جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ سیکریٹری لائیو اسٹاک کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جو اس معاملے کی تفتیش کرے گی۔






















