خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی حکومت کی کارکردگی پر مبنی عوامی رائے عامہ کا سروے جاری کردیا گیا، جس میں گورننس، معیشت اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے عوام نے واضح طور پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
گیلپ پاکستان نے سروے رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخواکے عوام پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی کارکردگی سے سخت نالاں ہیں۔ خود پی ٹی آئی ووٹرز بھی غیرمطمئن ہیں۔ 52 فیصد عوام کی رائے میں ترقیاتی فنڈز کرپشن کی نذر ہوچکے ہیں جبکہ 60 فیصد کی رائے میں صوبائی حکومت احتجاج میں وقت ضائع کررہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی مقبولیت گر چکی اور 50 فیصد لوگ مریم نواز کو بہتر سمجھتے ہیں،50 فیصدعوام افغان باشندوں کے پاکستان سے انخلا کے حامی ہیں۔
گیلپ پاکستان کا فروری اور مارچ 2025ء میں سروے،3ہزارافراد سے براہ راست انٹرویوز کیے، جن میں صرف 63 فیصد کوصحت کی سہولت میسر،جنوبی اور دیہی علاقوں میں حالت زیادہ خراب ہے۔
رپورٹ کے مطابق 66 فیصد فیصد آبادی گیس سے محروم، 49 فیصد کو بجلی کی قلت یاخراب فراہمی کا سامنا ہے، 53 فیصد لوگ صوبائی حکومت کا احتجاج وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔
گیلپ سروے رپورٹ کے مطابق صوبے میں 57 فیصد لوگ دہشتگردی سے خوفزدہ، 59 فیصد لوگ بے روزگاری سے پریشان ہیں۔ 70 فیصد کو کمیونٹی سینٹرزکی سہولت دستیاب نہیں، 77 فیصد پارکوں سےمحروم ہیں۔81 فیصد کیلئے کوئی لائبریری نہیں۔ 75 فیصد کیلئے سوشل میڈیا ناقابل اعتماد، 80 فیصد پابندی کے حامی ہیں۔
پولیس پر عوامی اعتماد جزوی بحال، 58 فیصد نے کارکردگی کو سراہا، عدالتی نظام پر عوامی اعتماد کمزور، 70 فیصد فیصلوں میں تاخیر سے پریشان ہیںِ۔ 84 فیصد کی رائے میں جرگہ نظام مؤثر ہے۔
رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے 85 فیصدعوام نے پاکستان سے افغان باشندوں کے انخلا کی حمایت کی ہے جبکہ 79 فیصد کی رائے میں افغان باشندوں کےانخلا سےسیکیورٹی بہتر ہوگی۔





















