ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی سے تعاون بند نہیں ہوا بلکہ اس کی نوعیت تبدیل ہوئی۔
تباہ شدہ ایٹمی تنصیبات کے دورے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی تہران میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ حملے میں ایٹمی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔، تنصیاب کے آس پاس تابکاری پھیلنے اور بارودی مواد پھٹنے کا خطرہ موجود ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایرانی ایٹمی تنصیبات سے زیادہ نقصان عالمی نظام کو پہنچا۔ اسرائیل اور امریکا عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے رہے۔ بین الاقوامی نظام کی سنگین خلاف ورزی پر عالمی برادری نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ہماری جوہری تنصیبات پر عسکری حملہ کیا گیا، آئی اے ای اے اور ایران کا تعاون ایک نئی شکل اختیار کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی کے حق کے بغیر کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا، کیونکہ یہ حق ایران کی خودمختاری، سائنسی ترقی اور پُرامن ایٹمی توانائی کے استعمال سے وابستہ ہے۔





















