لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع حفیظ سینٹر میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا۔
گلبرگ کے علاقے میں واقع لاہور کے مصروف ترین تجارتی مراکز میں سے ایک حفیظ سینٹر کے تہہ خانے میں آگ بھڑک اٹھی، ریسکیو 1122 حکام کے مطابق آگ تہہ خانے میں لگی اور تیزی سے دھواں پوری کثیر عمارت میں پھیل گیا، جس میں الیکٹرانکس کی سینکڑوں دکانیں اور دفاتر موجود تھے۔
فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے ایک گھنٹے کے آپریشن کے بعد آگ پر قابو پالیا، ریسکیو کے مطابق آپریشن میں 25 فائر گاڑیوں اور دو اسنارکلز کا استعال کیا گیا۔ کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اگرچہ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر شہر بھر کی کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی کے اقدامات کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا۔
ابتدائی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ آگ بجلی کی خرابی کی وجہ سے لگی ہے، جو ممکنہ طور پر بے نقاب وائرنگ اور وقتاً فوقتاً حفاظتی معائنہ کی کمی سے منسلک ہے۔
یاد رہے کہ حفیظ سنٹر میں 2020 میں ایک تباہ کن آگ نے بڑے پیمانے پر مالی نقصان پہنچایا، لیکن مبینہ طور پر تجارتی اور سیاسی دباؤ کے تحت تجویز کردہ فائر سیفٹی اپ گریڈ یا ساختی منظوری کے مکمل نفاذ کے بغیر عمارت کو بالآخر دوبارہ کھول دیا گیا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حفیظ سنٹر کو اس کی تاریخ کے باوجود مناسب فائر سیفٹی کلیئرنس یا ری وائرنگ کے بغیر کام کرنے کی اجازت دی گئی۔
مبصرین نشاندہی کرتے ہیں کہ اس طرح کی تجارتی عمارتوں کا دوبارہ کھلنا، پیشگی خطرات کی بنیادی وجوہات کو حل کیے بغیر، عوامی تحفظ کے لیے مسلسل خطرہ ہے۔
گورنر پنجاب کی جانب سے حال ہی میں لاہور میں آگ سے متاثرہ عمارت کو ایڈہاک بنیادوں پر دوبارہ کام شروع کرنے کا حکم دینے کے بعد بھی انہی خدشات کا اظہار کیا گیا۔ حفیظ سینٹر میں لگنے والی آگ نے اب اس فیصلے کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے، جس میں بہت سے لوگوں نے ضروری معائنہ کو نظرانداز کرنے کے سنگین خطرات کی نشاندہی کی ہے۔
ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ جامع ری وائرنگ، فائر کلیئرنس اور ساختی تشخیص کے بغیر ایسے کمپلیکس کو چلانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ممکنہ طور پر جان لیوا بھی ہے۔






















