سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں ترسیلات زر پر فیس ادائیگیوں سے متعلق معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اسٹیٹ بینک حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق ترسیلات زر 18 ارب ڈالر سے بڑھ کر 36 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ ترسیلات زر بھیجنے والوں کے لیے فری پلیٹ فارم مہیا کیا گیا ہے، اور حوالہ ہنڈی کے ذریعے رقوم منتقل کرنے کا رجحان اس لیے زیادہ تھا کیونکہ اس میں بھیجنے والوں کو زیادہ منافع ملتا تھا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب بینکوں کو فیس کی ادائیگی حکومت خود کرتی ہے ، کسی نے یہ بوجھ اٹھانا تھا تاکہ ترسیلات زر کے بھیجنے والوں کا اعتماد بڑھے ۔محسن عزیز نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی سخت مانیٹرنگ کے باعث بھی حوالہ ہنڈی کا استعمال کم ہوا ہے اور لوگ پیچھے ہٹے ، تاہم انہوں نے سینیٹر محسن عزیز کے اس حوالے سے بیان کو غیر متعلقہ قرار دیا۔
حکام کے مطابق ایف اے ٹی ایف کی شرائط صرف بڑی کمرشل ٹرانزیکشنز پر لاگو ہوتی ہیں۔ اجلاس میں کمیٹی اراکین نے مطالبہ کیا کہ ترسیلات زر بھیجنے والوں کو حکومت مزید سہولیات فراہم کرے۔
چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے انکشاف کیا کہ ماضی میں ترسیلات زر پر حکومت کی ادائیگی 30 ارب روپے سالانہ تھی، جو اب بڑھ کر 130 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔






















