سندھ ہائیکورٹ نے نیب کراچی کے دفتر کی منتقلی روکنے اور سیپرا رولز پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
دو نجی کمپنیوں نےسپرا کے ٹینڈر کےخلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی،عدالت نےریمارکس دیے سپرا اورورکس اینڈ سروسز ازسرنو ٹینڈر جاری کریں،عدالت نےسپرا، ورکس اینڈ سروسز سے 22 جولائی تک جواب طلب کرلیا۔
وکیل نےکہا کہ سیپرا نےنیب کراچی کےدفتر منتقلی کامشکوک جاری کیا،سپرا کی نظر ثانی کمیٹی نے ٹینڈر کے اجراءکو مشکوک قرار دیا تھا,جسٹس فیصل کمال عالم نے ورکس اینڈ سروس کے فوکل پرکو کہا عدالت آپ کےجواب سے مطمن نہیں ہے،چاہتے ہیں ٹینڈرکاعمل شفاف ہو،سپرا ریویو کمیٹی کی سفارشات پرعمل درآمد کیا جائے.چاہتے ہیں کہ پراجیکٹ میں تاخیر نا ہو،سپرا کی ویب سائیٹ ہیک ہو جائے یا کوئی وائرس آ جائے،یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔۔
فوکل پرسن ورکس اینڈ سروسز نےکہا ٹینڈر حاصل کرنے والی کمپنی کو ادائیگی کی جاچکی ہے،جس پر عدالت نےکہا ٹھیکے دارکہیں بھاگے نہیں جارہے،اپ بلیک لسٹ کردینگے توانکا دھندہ چوپٹ ہوجائیگا، ٹھیکیداروں کو آپ کےساتھ مزید کام کرنا ہے،ان سےرقم کی وصولی میں کوئی مشکل نہیں ہوگی، ٹھیکیداروں کی رقم واپس لی جاسکتی ہے۔۔





















