گلگت بلتستان میں بلند درجہ حرارت سے گلیشیئرز پگھلنے سے بڑے نقصانات کا خدشہ ہے۔
گلگت بلتستان تاریخ کی سخت ترین گرمی سےگزررہا ہے،یہ خطہ سردیوں میں برفباری سے محروم رہا اب گرمیوں میں بارش نہیں ہوئی،بلند درجہ حرارت سے گلیشیئرز پگھلنے سے بڑے نقصانات کا خدشہ ہے۔
گلگت بلتستان 7 ہزار سے زائد بڑے قدرتی گلیشیئرز کا مسکن ہے،موسمیاتی تبدلیوں کے باعث گلیشیئرز کو سنگین خطرہ لاحق ہے،بلند درجہ حرارت کے باعث گلیشیرزکا پگھلاو تیز ہورہاہےجو بڑے نقصانات کا باعث بن سکتا ہے۔
ڈائریکٹرمحکمہ ماحولیات حکومت گلگت بلتستان خادم حسین نوگامی کا کہنا ہےکہ سردیوں میں پیک سیزن جس میں برف باری ہوتی ہےنہیں ہوئی،اب گرمیوں میں وہی ہورہا ہےجون جولائی میں بھی وہی ہورہا ہے بلکل بارش نہیں ہے۔
جہاں گزشتہ سردیوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سےگرنےکا کئی برس پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا تھا،وہیں اس بارگرمیوں میں پارہ بلند ترین سطح پرہے،گزشتہ دنوں گلگت بلتستان میں درجہ حرارت 48.5 ڈگری تک ریکارڈ کیا گیا ہے
ڈائریکٹر محکمہ ماحولیات گلگت بلتستان کا کہنا ہےکہ ڈیڑھ ماہ سے ہیٹ وویو چل رہی ہے سے گرمی میں اضافہ جبکہ بالائی علاقوں میں بھی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے،اس سے گلیشیئرزکا پگھلاؤ زیادہ ہورہا اور برفانی تودے بھی تیزی سے پگھلتے ہیں
موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات انسانی زندگی پرمرتب ہورہےہیں،گلگت بلتستان میں زراعت اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔





















