سیشن کورٹ نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شوکت یوسفزئی کے خلاف دائر ہرجانے کے کیس کا 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے اسفندیار ولی کا دعویٰ منظور کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی کو 10 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
فیصلے کے مطابق شوکت یوسفزئی نے 2019 میں اسفندیار ولی پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے پختونوں کے سروں کا سودا کیا جس سے اسفندیار ولی کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
اسفندیار ولی نے ان الزامات کے جواب میں شوکت یوسفزئی کے خلاف ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔
عدالت نے شوکت یوسفزئی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ہرجانے کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا۔





















