پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایڈیشنل سیکرٹری سطح کے کثیر الجہتی مذاکرات کے پہلے دور میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا انعقاد وزارت خارجہ اسلام آباد میں ہوا جس میں پاکستانی وفد کی قیادت سفیر علی اسد گیلانی جبکہ افغان وفد کی سربراہی مفتی نور احمد نور نے کی۔
اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک نے دہشت گردی کو علاقائی امن، سلامتی اور ترقی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے تعاون پر زور دیا۔
پاکستان نے افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
مذاکرات میں تجارت، ٹرانزٹ، سیکیورٹی، اور دوطرفہ روابط سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے قانونی نقل و حرکت کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے اور افغان شہریوں کی واپسی سے متعلق معاملات پر بھی بات چیت کی۔
پاکستان نے افغان شہریوں کے لیے ویزا سہولتوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جنوری 2024 سے اب تک 5 لاکھ سے زائد ویزے طبی، سیاحتی، کاروباری اور تعلیمی مقاصد کے لیے جاری کیے جا چکے ہیں۔
دونوں ممالک نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں سہولت کے لیے 10 فیصد فیس کی معطلی، انشورنس ضمانت میں نرمی، اور اسکیننگ کے عمل میں کمی جیسے اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔
فریقین نے پائیدار ترقی اور خوشحالی کے لیے علاقائی رابطہ کاری کو کلیدی قرار دیتے ہوئے پاک،افغان،ازبک ریلوے منصوبے کے فریم ورک معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ آئندہ مذاکرات باہمی مشاورت سے طے شدہ تاریخ پر ہوں گے۔
سیکرٹری خارجہ سے ملاقات
بعدازاں، مفتی نور احمد نور نے سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سے بھی ملاقات کی۔
Director General, First Political Division, Ministry of Foreign Affairs Afghanistan, Mufti Noor Ahmad Noor, called on the Foreign Secretary, Amna Baloch @amnabaloch4 at the successful conclusion of the First Round of Pakistan-Afghan Political Consultations.
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) July 7, 2025
The Foreign… pic.twitter.com/cps4MX6JZu
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے ملاقات کے دوران باقاعدہ رابطوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے، خدشات کے حل اور خطے میں امن و خوشحالی کے فروغ میں مدد ملے گی۔






















