ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تاہم وہ اس میں ناکام رہا۔
سابق امریکی ٹی وی میزبان اور سیاسی تجزیہ کار ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بتایا کہ جنگ کے دوران وہ ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جب اسرائیل نے اپنے جاسوسوں کے ذریعے اس مقام کا پتہ لگا کر بمباری کی کوشش کی، لیکن وہ محفوظ رہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ زندگی اور موت کا فیصلہ صرف خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنے ملک و قوم کے لیے جان قربان کرنے کو تیار ہیں۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ ایرانی حکومت کا ہر فرد وطن کے دفاع کے لیے اپنی جان نچھاور کرنے کو تیار ہے۔
ٹکر کارلسن کے ایک سوال کے جواب میں کہ کیا ایران نے کبھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کے کسی منصوبے کی حمایت کی، ایرانی صدر نے واضح کیا کہ یہ الزامات اسرائیل کا پروپیگنڈا ہیں اور ایران نے کبھی ایسی کسی سازش کی حمایت نہیں کی۔
ایرانی صدر نے کہا ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے اور براہِ راست نہیں مگر بالواسطہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔
ان کا کہنا تھا ایران نے کبھی کسی دوسرے ملک پر حملہ نہیں کیا ، اگر کسی نے جنگ مسلط کی تو ہم نے اس کا جواب دیا۔






















