پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبرپختونخوا کے ضم اضلاع سے متعلق وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان اور اسے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کی سربراہی میں قائم یہ کمیٹی صوبائی حکومت کے معاملات میں وفاق کی مداخلت ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد ضم اضلاع میں جرگہ سسٹم سے متعلق تمام اختیارات صوبائی حکومت کے پاس ہیں، اور وفاق کو ایسی کمیٹی بنانے کا کوئی آئینی یا قانونی جواز نہیں۔
بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ کمیٹی کے کسی اجلاس میں قبائلی جرگہ سسٹم کی بحالی کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا اور پی ٹی آئی کے کسی رکن نے اس میں شرکت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ انتہائی حساس ہے، اور وفاقی حکومت کو اس کمیٹی کو فوری طور پر ختم کر دینا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قبائلی علاقوں سے منتخب ہونے والے 7 ایم این ایز میں سے 5 اور 17 ایم پی ایز میں سے 14 پی ٹی آئی کے ہیں جو صوبائی حکومت کی مضبوط نمائندگی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ضم اضلاع سے متعلق قانون سازی کا اختیار صرف صوبائی حکومت کے پاس ہے، اور صوبائی حکومت اس سلسلے میں معاملات کو آگے بڑھائے گی۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس غیر ضروری کمیٹی کو فوری طور پر ختم کرے تاکہ صوبائی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ جرگہ سسٹم پہلے ہی موجود ہے، اور وفاقی حکومت اب کون سا نیا جرگہ بنانا چاہتی ہے؟۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وفاق نے سابقہ فاٹا کے لیے واجب الادا 700 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری نہیں کیے، اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کے حقوق کی بات کرنے کے بجائے غیر ضروری مداخلت کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت یہ تماشہ بند کرے کیونکہ فاٹا اور خیبرپختونخوا کے لوگ اپنے فیصلے خود کرنا جانتے ہیں۔
سابق گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان نے کہا کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا مقصد اس کے پسماندہ ہونے کی وجہ سے ترقیاتی کاموں کو یقینی بنانا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ انضمام کے وقت فیصلہ کیا گیا تھا کہ فنڈز منتخب اراکین پارلیمنٹ کے ذریعے خرچ ہوں گے اور انتظامی ذمہ داری پی ٹی آئی حکومت پر عائد ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ایف سی آر قانون پر نظرثانی اور بندوبستی علاقوں کی مراعات کی تجدید کی جائے گی۔





















