نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پاکستان بھر میں یوم عاشورہ عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا اور ملک بھر میں نکالے گئے ماتمی جلوس پرامن طور پر اپنی منزلوں پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوئے جبکہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور سہولیات کے جامع انتظامات نے عزاداری کے عمل کو محفوظ اور منظم بنایا۔
لاہور
لاہور میں یوم عاشورہ کا مرکزی جلوس نثار حویلی، اندرون موچی گیٹ سے برآمد ہوا اور روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔
جلوس کے شرکاء نے رنگ محل چوک پر نماز ظہرین ادا کی۔
جلوس کے راستوں پر شربت، دودھ کی سبیلیں اور لنگر کا وسیع انتظام کیا گیا تھا۔
سیکیورٹی کے لیے 1600 سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کی گئی جبکہ چھتوں پر سنائپرز اور داخلی راستوں پر پانچ مقامات پر تلاشی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
لاہور میں 15 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں اور ٹریفک پولیس کی اضافی نفری نے فرائض سرانجام دیے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور، ڈی آئی جی آپریشنز اور دیگر صوبائی وزراء نے کربلا گامے شاہ کا دورہ کر کے سیکیورٹی کا جائزہ لیا۔
ملتان
ملتان میں یوم عاشورہ کے موقع پر 116 جلوس برآمد ہوئے، جن میں قدیمی استاد و شاگرد کے تعزیوں کے جلوس حرم گیٹ چوک پر اختتام پذیر ہوئے۔
شہر میں سیکیورٹی کے جامع انتظامات کے ساتھ عزاداری پرامن رہی۔
سیالکوٹ
سیالکوٹ میں یوم عاشورہ کا مرکزی جلوس امام بارگاہ دربتول، اڈہ پسروریاں پہنچ کر اور قدیمی جلوس امام بارگاہ مستری عبداللہ، امام صاحب چوک پر اختتام پذیر ہوا۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت جلوسوں کی نگرانی کی گئی۔
بہاولپور
بہاولپور میں 112 ماتمی جلوس برآمد ہوئے، جو قدیمی امام بارگاہ کربلا چوک پر اختتام پذیر ہوئے۔
2700 سے زائد پولیس اہلکاروں اور رضاکاروں نے سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دیے۔
قصور
قصور میں امام بارگاہ سادات منزل سے شبیہ ذوالجناح کا مرکزی جلوس برآمد ہوا اور امام بارگاہ حسینیہ کوٹ رکندین خاں میں اختتام پذیر ہوا۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور عزاداروں کے لیے سہولیات کا اہتمام کیا گیا۔
کروڑ لعل عیسن
جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا 100 سالہ قدیمی جلوس ٹبی امام کربلا پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔
سٹی اور گردونواح سے برآمد ہونے والے 54 دیگر جلوس بھی اسی مقام پر ختم ہوئے۔
سرگودھا
سرگودھا میں مرکزی جلوس امام بارگاہ کربلا منزل پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔
رینجرز، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مکمل فرائض سرانجام دیے۔
حسن ابدال
حسن ابدال میں یوم عاشورہ کا مرکزی ماتمی جلوس صبح 11 بجے امام بارگاہ حسینیہ پنجہ بازار سے برآمد ہوا اور مل پیراں امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوا۔
کراچی
کراچی میں 10 محرم کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا اور روایتی راستوں سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیان کھارادر پر اختتام پذیر ہوا۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور سی سی ٹی وی کیمروں سے نگرانی کی گئی۔
حیدرآباد
حیدرآباد میں مرکزی جلوس انجمن حیدری کے زیر اہتمام قدم گاہ مولا علی سے برآمد ہوا اور کوہ نور چوک، اسٹیشن روڈ اور سینٹ میری چوک سے ہوتا ہوا کربلا دادن شاہ پر اختتام پذیر ہوا۔
جلوس میں 25 سے زائد ماتمی انجمنیں شریک تھیں اور شرکاء نے سینٹ میری چوک پر نماز ظہرین ادا کی۔
گھوٹکی
گھوٹکی کے ڈھرکی حسینی امام بارگاہ سے برآمد ہونے والا مرکزی ماتمی جلوس حیدری امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوا۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت عزاداری پرامن رہی
پشاور
پشاور میں یوم عاشورہ کے تمام جلوس پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئے۔
آخری جلوس امام بارگاہ حیدر شاہ سے برآمد ہوا اور مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا واپس اسی امام بارگاہ پر ختم ہوا۔
لکی مروت
لکی مروت میں محرم الحرام کا واحد جلوس روایتی راستوں سے ہوتا ہوا بخاری شاہ میں اختتام پذیر ہوا۔
مرکزی کنٹرول روم سے مسلسل نگرانی کی گئی اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
نوشہرہ
نوشہرہ میں یوم عاشورہ کا مرکزی جلوس سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔
عزاداروں نے شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کیا۔
سینئر وزیر مریم اورنگزیب کا بیان
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر یوم عاشورہ کے لیے تاریخ کے سب سے بڑے انتظامات کیے گئے، جن میں سیکیورٹی، صفائی، ٹھنڈے پانی اور شربت کی سبیلیں، لنگر اور سخت سیکیورٹی انتظامات شامل ہیں۔
انہوں نے انتظامات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے پولیس اور دیگر اداروں کی کاوشوں کو سراہا۔
یوم عاشورہ کے موقع پر ملک بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات، سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرون سے نگرانی، اور عزاداروں کے لیے سہولیات کے انتظامات نے جلوسوں کے پرامن انعقاد کو یقینی بنایا۔
شام غریباں کی مجالس مختلف شہروں میں منعقد ہوئیں، جہاں شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔






















