وزیراعظم شہبازشریف نے قطری سفیر علی مبارک اور سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ، جس دوران امریکی فوجی اڈے پر ایرانی حملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امن کی ضرورت پر زور دیا ۔
اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ قطری سفیر سے رابطے میں وزیراعظم شہبازشریف نے خطے میں کشدیگی کم کرنے اور امن کی بحالی پر زور دیا اور قطرکی حکومت اور عوام سے مکمل اظہارِ یکجہتی کیا۔ قطری سفیر نے مشکل وقت میں رابطہ کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا ۔
وزیراعظم شہبازشریف نے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے ٹیلیفونک رابطے میں خطے میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امن کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مل کر امن کی کوششیں جاری رکھے گا، سعودی سفیرنواف بن سعید المالکی نے وزیراعظم سے رابطے پر اظہارِ تشکر کیا اور کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کو قریبی تعاون سے امن کی راہ ہموار کرنی چاہیے،
ایران کے پاسداران انقلاب کا بیان
ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دوحہ میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے، العدید ایئر بیس پر ایک طاقتور میزائل حملہ کیا جبکہ یہ جوابی حملہ، جو آپریشن بشارت الفتح کے تحت کیا گیا ایران کا حملہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سے منظور شدہ تھا۔
پاسداران انقلاب کا کہنا تھا کہ "ہٹ اینڈ رن" کا دور ختم ہو گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے سے مغربی ایشیا میں امریکی موجودگی کا خاتمہ تیز ہو جائے گا اور مستقبل کے حملے خطے میں امریکی فوجی انفراسٹرکچر اور صہیونی حکومت دونوں کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں۔
قطر
قطری محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ائیرڈیفنس سسٹم سے امریکی فوجی اڈے العدید پر میزائل حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ ایرانی حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں، حملے سے کوئی جانی یا مالی نقصان رپورٹ نہیں ہوا اور تمام میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روک لیا گیا۔
قطری محکمہ خارجہ کے مطابق یہ حملہ خطے کی استحکام کےلیے خطرہ ہے اور تمام فریقوں سے تنازعے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔
قطر نے خبردار کیا کہ ایرانی حملے کے بعد جوابی اقدام کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل کا بیان
ایران کی قومی سلامتی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکہ کے العدید اڈے پرحملہ برادر ملک قطرکیلئے کوئی خطرہ نہیں۔
وائٹ ہاؤس
ایرانی میزائل حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا کہ قطر میں امریکی اڈوں پر حملوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایران
ایرانی حکام کی جانب سے کہا گیا کہ مسلح افواج نے اتنے ہی بم استعمال کئے جتنے امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات پر کئے تھے۔






















