وزیراعظم شہباز شریف نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جانہوں نے حال ہی میں مولانا اسجد محمود پر ہونے والے حملے اور مبینہ اغوا کی کوشش پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے صاحبزادے سے خیریت دریافت کی اور واضح ہدایات جاری کیں کہ حملے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے فوری اور شفاف کارروائی کریں۔
ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، امن و امان اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے جمہوریت، پارلیمانی عمل اور سیاسی استحکام کے لیے باہمی مشاورت اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اس موقع پر جے یو آئی کے رہنما اسعد محمود، مولانا لطف الرحمٰن، عبید الرحمٰن اور مفتی ابرار احمد بھی شریک تھے، جبکہ وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطا اللہ تارڑ اور مشیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔






















