رہنما پیپلزپارٹی آغا رفیع اللہ نے وفاقی حکومت سے نئی پنشن پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ کردیا۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پنشن پرقدغن بیوہ اور معذور بچوں پر نہ لگے، ریٹائرمنٹ کے بعد بیوہ یا معذور بچوں کوکس کے رحم و کرم پر چھوڑ رہے ہیں؟ وزیراعظم سے درخواست ہے نئی پنشن پالیسی پر نظر ثانی کی جائے۔
آغا رفیع اللہ نے کہا کہ بجٹ میں کم سے کم سے اجرت کا تعین نہیں کیا گیا۔ 37 ہزار روپے تنخواہ بھی پوری نہیں مل رہی۔ پارلیمنٹ کے کیفےٹیریامیں 18ہزار روپے تنخواہ دی جارہی ہے۔
رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ نے کہا کیا 37ہزار کم از کم اجرت مل رہی ہے، ایک عام دکان پرکام کرنے والے کو17سے18ہزار تنخواہ ملتی ہے، انہوں نے ایف بی آر کو گرفتاریوں کے اختیارات دینے کی مخالفت بھی کردی۔
پنشن اصلاحات کا اعلان
واضح رہے کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ 2025-26 کی تقریر میں پنشن اصلاحات کا اعلان کردیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند دہائیوں میں ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے پنشن اسکیم میں تبدیلیوں سے سرکاری خزانے پر بوجھ بڑھا جسے کم کرنے کے لیے حکومت نے اہم اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔
نئی اصلاحات کے تحت قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور پنشن میں اضافہ کنزیومر پرائس انڈیکس سے منسلک کیا گیا ہے۔ شریک حیات کے انتقال کے بعد فیملی پنشن کی مدت 10 سال تک محدود کر دی گئی ہے اور اس کے علاوہ ایک سے زائد پنشنز کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت کی صورت میں ملازم کو پنشن یا تنخواہ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔






















