روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایرانی جوہری پلانٹ پر کام کرنے والے روسی ماہرین کی سلامتی کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ روس نے ایران کا پہلا جوہری پاور پلانٹ مکمل کرنے میں مدد دی اور اس وقت 2 مزید ری ایکٹرز کی تعمیر میں بھی تعاون کر رہا ہے، جس پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے 200 سے زائد ماہرین وہاں موجود ہیں، ہم نے اسرائیلی قیادت سے ان کی سلامتی کے تحفظ پر بھی بات کی ہے جب کہ اسرائیل نے ایرانی جوہری پلانٹ پر کام کرنے والے روسی ماہرین کی سلامتی کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
خبر رساں ادارے کی جانب سے سوال پر کہ کیا ایران نے مدد مانگی ہے؟ روسی صدر کا کہنا تھا کہ ہمارے ایرانی دوستوں نے اس بارے میں ہم سے کچھ نہیں کہا ہے۔
پوتن کا کہنا ہے کہ روس کسی پر کچھ بھی مسلط نہیں کر رہا۔ انھوں نے کہا کہ ہم محظ اس بارے میں بات کر رہے ہیں کہ اس صورتحال سے کیسے نکلا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا فیصلہ ان ممالک بالخصوص اسرائیل اور ایران کی سیاسی قیادت پر چھوڑ دینا چاہیے۔
جب پوتن سے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کے امکان کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا، ’میں نے اس بارے میں سنا ہے، لیکن میں اس امکان کے بارے میں بات بھی نہیں کرنا چاہتا۔ میں نہیں کرنا چاہتا۔






















