وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی کابینہ نے پاور سیکٹر میں تاریخی اصلاحات کی منظوری دے دی۔
بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا جس متعدد اہم فیصلے کیے گئے جن میں پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سب سے بڑی مالیاتی اسکیم کی منظوری سرفہرست ہے۔
وفاقی کابینہ نے پاور سیکٹر میں مالیاتی استحکام کی بحالی کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے 1,275 بلین روپے کے گردشی قرضے کو اگلے چھ سالوں میں ختم کرنے کی اسکیم کی منظوری دی۔
اس اسکیم کے تحت پاور ہولڈنگ کمپنی کے 683 ارب روپے کی ری فنانسنگ اور انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے بقایاجات کی ادائیگی کی جائے گی۔
یہ فیصلہ قومی بجٹ پر اضافی دباؤ ڈالے بغیر توانائی کے شعبے کی اصلاحات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور وزیراعظم نے اسے پاکستان کی معیشت اور بجلی کے شعبے کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔
کابینہ نے عوام دوست بجٹ پر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ان کی معاشی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور حج بیت اللہ کے دوران شاندار انتظامات پر وزیراعظم نے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف کو خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ امریکہ کے دوران پاکستانی برادری سے خطاب کی تعریف کی اور انہوں نے فیلڈ مارشل کے پاکستان کی سرحدوں اور مفادات کے دفاع کے لیے پختہ عزم کے اظہار پر خراج تحسین پیش کیا۔
وفاقی کابینہ نے وزارت انسانی حقوق کی سفارش پر کمال الدین ٹیپو کو کمیشن برائے پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز کا چیئرپرسن تعینات کرنے کی منظوری دی۔
کابینہ نے نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ کو روش پاور پلانٹ کے حصول کے تناظر میں خدمات کی خریداری کے لیے پاکستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 کے سیکشن 21 کے تحت استثنٰی دینے کی منظوری دی۔
وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز کے 21 مئی 2025 کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق بھی کی۔
وزیر اعظم کا خطاب
وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیل کو عالمی امن کےلیے خطرہ قرار دیدیا۔
وفاقی کابینہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ صیہونی ریاست نے ایران کے خلاف کھلی جارحیت کی۔ غزہ میں بھی ظلم کا بازار گرم ہے۔ عالمی ضمیر کب جاگے گا؟ اسرائیلی اقدامات عالمی اور خطے کے امن کیلئے خطرناک ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے حوالے سے صورتحال افسوسناک ہے، ہم نے ایران پراسرائیلی حملے کی مذمت کی، ایرانی صدر سے پاکستانی عوام کی جانب سے یکجہتی کا اظہار کیا، عالمی ممالک کو جلد جنگ بندی کیلئے کوشش کرنی چاہیے۔
شہبازشریف نے کہا کہ بھارت کیخلاف جنگ میں اللہ تعالیٰ نے عظیم فتح عطا فرمائی، دہشتگردی کیخلاف جنگ جاری ہے، افواج کو جو ضروری سامان چاہیے،ہم نے بجٹ میں اسپیس کو بڑھایا، پی ایس ڈی پی کو اس سال ایک ہزار ارب پر لائے ہیں، جو معیشت کو ڈیفالٹ پر لے گئے تھے، ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ کے حوالے سے بحث جاری ہے، بجٹ کے حوالے سے وزیرخزانہ اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں۔ آئی ایم ایف کو بتادیا تھا۔ زراعت اور کھاد پر ٹیکس نہیں لگنے دیں گے، تنخواہوں میں اضافہ 10 فیصد کیا گیا۔ 6 لاکھ سے 12 لاکھ تک لوگوں پر ایک فیصد ٹیکس لگے گا، پچھلے سال 5 فیصد تھا خوشی ہے آئی ایم ایف نے اس بات کو مان لیا۔






















