وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک سخت لہجے پر مبنی خط جمع کروایا ہے جس میں اسرائیل کے حالیہ حملوں پر شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ یہ خط سلامتی کونسل کے آئندہ بند کمرہ اجلاس سے قبل جمع کرایا گیا ہے،
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو لکھے گئے خط میں کہا کہ اسرائیل کے یہ حملے نہ صرف اقوام متحدہ کے ایک خودمختار رکن ریاست، ایران، کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، جنیوا کنونشن اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی صریح پامالی بھی ہیں۔ ان اقدامات کو صرف جنگی جرائم اور بین الاقوامی جارحیت ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ وہ تمام بین الاقوامی ریڈ لائن عبور کر چکی ہے اور عالمی برادری کو ان جرائم پر خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکرٹری جنرل پر فرض ہے کہ وہ ان حملوں کی نہ صرف مذمت کریں بلکہ فوری واضح اور نتیجہ خیز اقدامات اٹھائیں تاکہ اسرائیل کو سزا دی جا سکے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر عالمی ادارے نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی یا تاخیر کی، تو یہ اسرائیل جیسے حملہ آور کو مزید جارحیت پر اکسانے کے مترادف ہوگا۔ ایسی خاموشی حملہ آور کے لیے کھلی چھوٹ ہوگی اور خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو بے قابو کر دے گی۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے دفاع کے حق کو محفوظ رکھتا ہے اور اسرائیل کی جانب سے کی گئی ان غیر قانونی، بزدلانہ اور اشتعال انگیز کارروائیوں کا سخت، مؤثر اور متناسب جواب دیا جائے گا۔
وزیرخارجہ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، عوام اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور یہ حق کسی بھی صورت میں قابلِ گفت و شنید نہیں۔ اسرائیل کو اپنی اس لاپرواہ جارحیت اور اسٹریٹیجک غلط اندازوں پر شدید پچھتاوا ہوگا۔






















