کھاد کی قیمتوں میں گٹھ جوڑ پر مسابقتی کمیشن نے کھاد کمپنیوں پر ساڑھے 37 کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا۔ کمیشن کے مطابق کمپنیاں پروڈکشن کاسٹ مختلف ہونے کے باوجود قیمتیں یکساں رکھ کر صارفین کو نقصان پہنچا رہی تھیں۔
مسابقتی کمیشن نے 6 بڑی کمپنیوں اور فرٹیلائزر مینوفیکچرنگ ایڈوائزری کونسل کو گٹھ جوڑ میں ملوث قرار دیا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ فرٹیلائزر کمپنیاں اپنی آگاہی مہم کی آڑ میں قیمتوں کا تعین آپس میں طے کرتی رہیں۔ ہر کمپنی پر 5 کروڑ، کونسل پر 7 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔
مسابقتی کمیشن کے مطابق پالیسی کے تحت فرٹیلائزر سیکٹر کی قیمتیں ڈی ریگولیٹڈ ہیں اس کے باوجود قیمتوں کا مصنوعی تعین کسانوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ کاروباری اور تجارتی تنظیمیں قیمتیں طے نہیں کر سکتیں ایسا کرنا مارکیٹ کو متاثر کرتا ہے۔چیئرمین مسابقتی کمیشن ڈاکٹر کبیر سدھو کا کہنا ہے کاروباری اور تجارتی تنظیمیں قیمتوں کا تعین نہیں کر سکتیں۔






















