حکومت نے نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں ریلیف دینے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں ریلیف دینے کا فیصلہ کرلیا جبکہ کیش ٹرانزیکشن کی حوصلہ شکنی کےلیے فنانس بل 2025میں اہم تجاویز زیر غور ہیں۔
خیال رہے کہ سرکاری ملازمین نے تنخواہوں اور الاؤنسز میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کیا ہے، ملازمین نے کم ازکم ماہانہ اجرت یا تنخواہ 50 ہزار مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے، مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں 10 جون کو پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان ہے۔
ذرائع ایف بی آر کے مطابق کیش ملک میں ٹرانزیکشن کی حوصلہ شکنی کے لیے بجٹ میں پیٹرول پمپ سے نقد تیل خریدنے پر تین روپے تک اضافی وصولی کی تجویز ہے، اس سے ٹیکس چوری اور ملاوٹ پر قابو پانے میں مدد ملے گی، مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان نقد فروخت پر اضافی2 فیصد ٹیکس وصول کرسکیں گے۔
بجٹ میں ٹیئرون ری ٹیلرزپر نقد خریداری پر بھی اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے، ریسٹورنٹس پر پہلے ہی ڈیبٹ کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی پر ٹیکس چھوٹ ہے، پیٹرول پمپس پر نقد کے ساتھ ڈیجیٹل پیمنٹ کے آپشنز استعمال کیے جاسکیں گے۔ کیوآر کوڈز، ڈیبٹ، کریڈٹ کارڈز، موبائل ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے کے اقدامات شامل ہیں، خریدار زیادہ ٹیکس اداکرنے کے بعد نقد ادائیگی کرنے میں آزاد ہوں گے۔
ذرائع ایف بی آر کے مطابق نئے بجٹ میں ایونٹ مینجرز، جیولرز، شادی ہالز، ڈاکٹر اور وکلا کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوئی تجویز نہیں۔





















