پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ سے متعلق ورچوئل مذاکرات جاری ہے۔ مذاکرات میں تنخواہ دار طبقے کو ممکنہ ریلیف دینے، بجٹ اہداف اور مختلف اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
بجٹ سے متعلق سماء ڈیجیٹل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نمائندہ خصوصی سماء نے کہا کہ حکومت کےلیے بجٹ بنانا کافی مشکل ہے کیونکہ آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے آپ کو بہت سارے شرائط پورے کرنے ہیں۔ آئی ایم ایف نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والے خسارے کو پورا کرنے کے لیے مختلف تجاویز کی تفصیلات طلب کی ہیں۔
حکومت رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور ریٹیل سیکٹر ٹیکس نیٹ میں نہیں لاسکے، تنخواہ دار طبقے پر سب سے زیادہ ٹیکس عائد ہے، پھر سپر ٹیکس اور سرچارج بھی لے رہے ہیں۔ مالی سال کے پہلے سال 10 ماہ میں تنخواہ دار طبقے نے 437 ارب روپے ٹیکس دیا ہے۔ جو پچھلے سال سے 50 فیصد زیادہ ہے۔
تنخواہ دار طبقہ حکومت سے ریلیف کی توقع کررہی ہے مگر حکومت کو ریلیف فراہم کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والے خسارے کا متبادل حل بھی بتانا پڑے گا، جو 50 کروڑ روپے سے زیادہ کا بن رہا ہے کہ وہ کہاں سے پورا ہوگا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں، 10 جون کو بجٹ ہے، اس سے پہلے اکنامک سروے ہوگا، دیگر اجلاسوں میں تجاویز کی منظوری دی جائے گی، بہت سارے سیکٹر ریلیف کی ڈیمانڈ کررہی ہے مگر حکومت کے پاس گنجائش کم ہے۔
مختلف سیکٹرز کے لیے ریلیف کی تجاویز تیار کی گئی ہیں، آئی ایم ایف کی جانب سے ان تجاویز پر ردعمل مثبت رہا ہے، تاہم ریلیف اقدامات کے بدلے متبادل ریونیو پلان پیش کرنا لازمی ہے۔




















