امریکا میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ کا کہنا ہے کہ بھارتی پارلیمنٹ میں "اکھنڈ بھارت" کا نقشہ بھارتی توسیع پسندانہ عزائم ظاہرکرتا ہے۔ مستقبل میں کسی بھارتی جارحیت کا جواب تحمل سے نہیں بلکہ بھرپور طاقت سے دینا ہوگا۔
امریکا میں پاکستانی سفیررضوان سعید شیخ نے معروف امریکی تھنک ٹینکس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا حالیہ پاک بھرت جنگ بندی کی شرائط میں کشمیر، دہشتگردی اور سندھ طاس معاہدے سمیت تمام امور پر بات چیت پر بھارت کی آمادگی شامل تھی،اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کوئی تاریخ تنسیخ نہیں ہوتی، اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعملدرآمد کی راہ میں سب سےبڑی رکاوٹ بھارت ہے۔
پاک بھارت تعلقات کی پیچیدگیوں، مسئلہ کشمیر، حالیہ کشیدگی اورمستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے رضوان سعید شیخ نے کہا بھارت نےآرٹیکل 370 ختم کرکے سلامتی کونسل کی قرارداد کو رد کردیا،بھارتی پارلیمنٹ میں"اکھنڈ بھارت"کا نقشہ بھارتی توسیع پسندانہ عزائم ظاہرکرتا ہے۔
امریکا میں پاکستانی سفیر نے کہا حالیہ جنگ میں پاکستان نے بھارت کی شہری آبادی کو نشانہ نہ بناکرغیرمعمولی ذمہ داری کا ثبوت دیا، جنگ بندی میں امریکا کا کردارکلیدی رہا لیکن بھارتی جارحانہ بیانات کےتسلسل کی بدولت جنگ بندی کمزور ہے، مستقبل میں کسی بھارتی جارحیت کا جواب تحمل سے نہیں بلکہ بھرپورطاقت سے دینا ہوگا۔
رضوان سعید شیخ نے توقع ظاہر کی امریکا جنگ بندی کے بعد تصفیہ طلب معاملات میں پیشرفت میں کردارجاری رکھے گا، پاکستان اپنی مزاحمتی صلاحیت کو سفارتی طور پر مضبوط کررہا ہے، یہ بھی کہا کہ افغانستان کی صورتحال سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک پاکستان ہے، افغانستان میں امن پاکستان کو وسط ایشیا کے ساتھ معاشی طور پر جوڑنے میں معاون ثابت ہوگا۔






















