ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ بھارت دہشتگردوں کو فنڈنگ فراہم کرتا ہے، فتنہ الہندوستان خضدار میں بچوں کی شہادت میں ملوث ہے۔
وفاقی سیکرٹری داخلہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت خطے میں امن کو سبوتاژ کررہا ہے، مختلف گرفتار دہشتگردوں نے بھارتی پشت پناہی کا اعتراف کیا ہے، فتنہ الہندوستان خضدار میں بچوں کی شہادت میں ملوث ہے۔حملے کے کئی بچے اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2016 میں بھی بھارت کے دہشتگردی میں ملوث ہونے کے شواہد دنیا کے سامنے رکھے، 2009 میں پاکستان نے بلوچستان میں بھارت کے ملوث ہونے کا ڈوزیئر پیش کیا، کلبھوشن نے اعترافی بیان میں تمام ترحقائق بتائے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق 12 اپریل کو فتنہ الہندوستان نے مزدوروں کو شہید کیا، پنجگور میں بھی غریب مزدوروں کو شہید کیا گیا، دکی میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے مزدوروں کو شہید کیا گیا، 14 فروری کو ہرنائی میں 10معصوم لوگوں کوشہید کیا گیا۔ بارکھان میں 7مسافروں کوبس سے اتارکر شہید کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بارکھان میں 7مسافروں کو بس سے اتار کر شہید کیا گیا، 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس میں معصوم مسافروں کو نشانہ بنایا گیا، 26 مارچ کو گوادر میں مزدوروں کوشہید کیا گیا۔ 9 مئی کو لسبیلہ میں 3مزدروں کو قتل کیا گیا، نوشکی میں 4مزدوروں کو شہید کیا گیا۔ خضدار حملے میں 51زخمی ہیں،اکثریت بچوں کی ہے، فتنہ الہندوستان کے اصل باپ نے حملے کرکے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہ درندے ہندوستان کے پیسوں پر بربریت کرتے ہیں، بلوچ بھی پوچھ رہے ہیں کہ بلوچیت کا دہشتگردی سے کیا تعلق ہے؟ فتنہ الہندوستان کا بلوچیت سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ فتنہ الہندوستان ہے اسکا کسی اور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جہاں دشمن نے حملے کیے گئے وہاں معصوم بچےتھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان کی 100سے زائد کی تشکیل کو سیکیورٹی فورسز نے گھیرا،71کو ہلاک کیا، جب بھی یہ پکڑے جاتے ہیں تو امریکی ساختہ اسلحہ برآمد ہوتا ہے۔ ان کے بزدلانہ حملوں پرپاک افواج سینہ تان کرکھڑی ہیں، پوری دنیا دیکھ رہی ہے اور ڈرامہ کرتے ہیں پاکستان سے دہشتگردی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 6 اکتوبر2024کو کراچی میں ہمارے چینی دوستوں پر حملہ کیا گیا، جعفر ایکسپریس حملےکی دنیا بھر میں مذمت، بھارتی سوشل میڈیا نے جشن منایا۔ کونسا ملک ہے جو دہشتگردی کے حملوں پرجشن مناتا ہے؟ وہ میزائل مارتے ہیں، ڈرونز بھیجتے ہیں پاکستانی قوم کامورال نہیں گرتا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق معرکہ حق میں پاکستان نے دشمن کامنہ کالا کیا، پاکستان میں دہشتگردی کو بھارت سپورٹ کرتے ہیں، ان کے ظلم پرری ایکشن آتا ہے اس کا کوئی حل نہیں نکالتے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس ٹرین حملے میں فورسز نے سیکڑوں لوگوں کو بچایا، دنیا جانتی ہے کہ بھارت کیا کررہا ہے اور کیسے پاکستان میں دہشتگردی کررہا ہے، بھارت میں سارا میڈیا ریاست کے ہاتھ میں ہے، آزاد نہیں ہے، فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کاگٹھ جوڑ ہے، دہشتگرد بشیرزیب، اسلم اچھو کو بھارت نےویزہ اور انٹری فراہم کی، دہشتگردوں کوگولی لگتی ہے تو بھارت ان کاعلاج معالجہ کرتا ہے، کچھ بہادران کی چالوں کو سمجھتے ہیں تو پھر سرینڈر کرتے ہیں۔
"اس سال ہم نے 700 سے زائد دہشتگردوں کو ہلاک کیا"
ترجمان پاک فوج کہا کہ ہندوستان کے فتنے کھل کر سامنے آرہے ہیں، بھارت کے ڈس انفولیب سے ہزاروں اکاونٹس چلائے جارہے ہیں، ہم ذمہ دار قوم ہیں،ایسانہیں کہ رات کو ان کے مندوروں پرحملہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان معاشی لحاظ سے بہتری کی جانب جارہاہے، مائنزریونیو میں بلوچستان حکومت کا بہت شیئر ہے، بلوچستان اور حکومت پاکستان کا بلوچستان پر بہت فوکس ہے، دہشتگردوں اور سہولت کاروں سے معاشی ترقی ہضم نہیں ہورہی۔ ان کو سمجھ آرہی ہے پاکستانی قوم متحد ہورہی ہے، وہ فرسٹریشن اور دباؤ میں ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2024میں ایک ہزار18دہشتگرد ہلاک کیے،2025میں ابھی تک ہم نے700سے زائد دہشتگرد ہلاک کئے، اس سال ابھی تک ہم نے بلوچستان سے 200 سے زائد دہشتگردوں کو ہلاک کیا، پاکستان نے دہشتگردی کےخلاف زمین کوتنگ کرنا شروع کردیا، غیرقانونی فنڈنگ کے بہت سارے راستوں کو بند کیا جارہا ہے۔
"ہمارا سکھوں کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے"
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ سکھ مذہب کے اہم مقدس مقامات پاکستان میں ہیں، پاکستانی پنجاب اور سکھ کمیونٹی میں پیار اور محبت کارشتہ ہے، بھارت نے ننکانہ صاحب میں ڈرونز بھیجے جن کو ہم نے تباہ کیا، بھارت نے امرتسر میں پروجکٹائل فائرکیے تھے، بھارت معرکہ حق میں سکھ کمیونٹی کوبھارت شامل کرنا چاہتا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے 13پوائنٹ ہیں، ہر جگہ کہیں نہ کہیں امپرومنٹ کی گنجائش ہوتی ہے، ماہ رنگ بلوچ جیسے لوگوں کاچہرہ بے نقاب کرنا چاہیے۔
"اگر کوئی گھمنڈ ہے تو دوبارہ آزمالیں"
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کے لوگوں کو جواب دہ ہیں، 8 اور9تاریخ کو کہا جارہا تھا پاکستان نے حملہ کردیا، ہم نے کہا ہمیں بھارتی میڈیاکی ضرورت نہیں حملہ کریں گےتونظر آئے گا، ہم کسی کے مذہبی مقامات پرحملہ کیوں کریں گے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق وہ اپنی چوائس اورمقامات کی مرضی سے آئے تھے، وہ بہت سارے مفروضوں پر آئے تھے، وہ آئے اور نتائج دیکھ لیا،دوبارہ شوق ہے توآئیں، اگر کوئی گھمنڈ ہے تو دوبارہ آزمالیں۔ ہم باربار کہہ رہےہیں حماقت نہ کریں،اس وقت بھی کہا تھا اب بھی کہہ رہے۔ سیزفائر کا مطلب ہے فائربندی، جہاں سے تصادم شروع ہوا وہ مسائل حل نہیں ہوئے، کشمیر کے تنازع کے حل ہونے تک امن نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ثابت کیا کہ ہم آپ کےسامنے نہیں جھکنے والے، کوئی پاگل ہی ہے جو سوچ سکے کہ24کروڑ عوام کا پانی روکے گا، فتنہ الہندوستان بلوچستان کی ترقی کے دشمن ہیں، سب کچھ کے باوجود بھارت کا جھوٹ نہ چل سکا،ہم حق پرہیں۔
"افغانستان ایک نارمل ریاست کی طرح ری ایکٹ کرے"
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان نے افغانیوں سے ہمیشہ حسن سلوک کیا ہے، افغانستان سے ہمارا محبت اور بھائی چارے کا رشتہ ہے مگر کوئی ریاست اجازت نہیں دیتی کہ ان کے شہریوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جائے، آرمی چیف کہہ چکے ایک پاکستانی کا خون ہزار افغانیوں پر مقدم ہے، افغانستان ایک نارمل ریاست کی طرح ری ایکٹ کرے۔
اس سے قبل وفاقی سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ خضدار میں دہشتگردی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، دہشت گردوں نے اسکول کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا، دہشتگرد حملہ اسکول بس پر نہیں ہماری اقدار پر تھا، خضدار حملے میں فتنہ الہندوستان ملوث ہے، دہشتگردوں کو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔






















