لاہور کے علاقے سمن آباد میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کے ڈیرے سے لاش برآمد ہونے کا معاملہ نیا رخ اختیار کر گیا۔
پولیس کے مطابق سابق صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کے ڈیرے کے ایک کوارٹر سے ملنے والی لاش کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے اور تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ کوارٹر ارشد نامی ایک شخص نے پراپرٹی ڈیلر کے ذریعے کرائے پر لیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ارشد نے خود کو سی آئی اے کا اہلکار ظاہر کیا تھا اور واقعہ کے بعد سے ارشد غائب ہے جبکہ پولیس اسے تلاش کرنے میں مصروف ہے۔
پولیس نے بتایا کہ مقتول کی شناخت کے لیے اس کے فنگر پرنٹس حاصل کر لیے گئے ہیں جبکہ کوارٹر کرائے پر لینے والے شخص کو حراست میں لے کر مزید حقائق سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی۔
دوسری جانب لاش کو تحویل میں لے کر مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سابق صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کے ڈیرے کے سرونٹ کوارٹر سے ایک 30 سے 35 سالہ شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے جس کے بعد پولیس نے شواہد اکٹھے کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے اور معاملے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔