چین کے مرکزی بینک(پیپلز بینک آف چائنا) کے گورنر پان گونگ شینگ نے کہا ہے کہ عالمی کرنسیاں امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوئی ہیں چینی یوآن نے استحکام برقرار رکھا ہے چین سرمایہ کاری پر انحصار کم کر رہا ہے گھریلو آمدنی میں اضافہ اور سبسڈیز کو ترجیح دیں گے۔
سعودی عرب میں ہونے والی العلا کانفرنس برائے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں خطاب کرتے ہوئے چین کے مرکزی بینک(پیپلز بینک آف چائنا) کے گورنر پان گونگ شینگ نے کہا کہ مستحکم یوآن عالمی مالیاتی اور اقتصادی استحکام کے لیے ایک کلیدی عنصر ہے اور بیجنگ تبادلہ نرخ کے تعین میں مارکیٹ کو فیصلہ کن کردار ادا کرنے دے گا جب کہ زیادہ تر عالمی کرنسیاں امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوئی ہیں، چینی یوآن نے استحکام برقرار رکھا ہے۔
چین کے مرکزی بینک(پیپلز بینک آف چائنا) کے گورنر پان گونگ شینگ کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں کئی عوامل نے امریکی ڈالر انڈیکس کو اوپر پہنچایا ہےجس کی وجہ سے دیگر کرنسیاں گراوٹ کا شکار ہوئیں لیکن مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ کے باوجود یوآن بڑی حد تک مستحکم رہا ہے۔
چین کی معیشت سے متعلق بات کرتے ہوئے گورنر پان گونگ شینگ نے کہا کہ چین اب سرمایہ کاری پر انحصار کم کر رہا ہے اور گھریلو معیشت کو فروغ دینے کے لیے صارفین کی معیشت کو ترجیح دے رہا ہے اس حوالے سے حکومت نے گھریلو آمدنی بڑھانے اور سبسڈیز دینے جیسے اقدامات متعارف کرائے ہیں تاکہ 2025 میں معیشت میں بہتری لائی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین ایک فعال مالیاتی پالیسی اور نرم مانیٹری پالیسی اختیار کرے گا اور معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے انسدادی اقدامات کو مزید مؤثر بنائے گا۔