سینیٹر فیصل واوڈا کی جانب سے ایف بی آر افسران پر قتل کی دھمکیوں کے الزام پر ان لینڈ ریونیو سروس افسرز ایسوسی ایشن کا ردعمل سامنے آگیا۔
ان لینڈ ریونیو سروس افسرز ایسوسی ایشن نے سینیٹر فیصل واوڈا کے الزامات کی تردید کردی، بیان میں کہا گیا ہے کہ ان لینڈ ریونیو سروس افسران نے کوئی دھمکیاں نہیں دیں، افسران کو بدنام کرنے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔
بیان کے مطابق سرکاری گاڑیوں کی خریداری قواعد کے مطابق ہوئی، فیصل واوڈا الزامات کے ثبوت پیش کریں، بے بنیاد بیانات افسران کے حوصلے پست کر رہے ہیں، ٹیکس وصولی کے عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ان لینڈ ریونیو سروس افسران ایمانداری اور پیشہ ورانہ اصولوں پر کاربند ہیں، افسران کی عزت و وقار کا ہر حال میں دفاع کریں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واڈا نے الزام عائد کیا ہے کہ گاڑیوں کی خریداری کے معاملے پر فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے افسران کی جانب سے مجھے جان سے مارنے اور میرا کاروبار برباد کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سلیم مانڈوی کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے 1010 گاڑیوں کی خریداری کا معاملہ زیر بحث آیا۔
فیصل واڈا نے الزام عائد کیا کہ تین افسران نے مجھے مارنے کی دھمکی دی، مجھے میرا کاروبار برباد کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اس معاملے پر تو کریمنل کاروائی بنتی ہے، میرے پاس ثبوت ہیں، میں ان کو جواب دوں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں 54 کرپٹ افسران کی فہرست لایا ہوں جو جواہرات اور سونے کی تجارت کر رہے ہیں، میرے پاس ان کی جائیدادوں اور اثاثوں کی مکمل تفصیلات ہیں جب کہ یف بی آر کی گاڑیوں کون کون غلط استعمال کرتا ہے، سارے ثبوت ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کی خریداری میں مجرمانہ غفلت کی گئی، ایک ہزار گاڑیاں سالانہ ایک ارب روپے کا پیٹرول کھا جائیں گی، انفورسمنٹ کی 100 فور ویل گاڑیاں افسران کے گھروں پر پہنچ گئی ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے دھمکیاں دینے والے ٹیکس افسران کے خلاف کیس ایف آئی اے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایف بی آر حکام نے گاڑیوں کو معاملہ اٹھانے پر دھمکیوں والے پیغام بھیجے۔
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ جن افسران نے دھمکیاں دی انہیں نہیں بخشوں گا، دھمکی کے خلاف ہائی لیول انکوائری کرائی جانی چاہیے۔ قائمہ کمیٹی کے اراکین نے مطالبہ کیا کہ یہ معاملہ کسی کرائم ایجنسی یا ایف آئی اے کوبھیجا جائے۔
خیال رہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ایف بی آر افسران کے لیے اربوں روپے کی مالیت کی ایک ہزار سے زائد گاڑیاں خریدنے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔





















