سپریم کورٹ کے سینئرترین جج جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ تنازع کی صورت میں فوری عدالت آنے کے بجائے ثالثی کی کوشش کرنی چاہیے۔
تنازعات کے متبادل حل کے موضوع پر آئی بی اے سٹی کیمپس کراچی میں سیمینار سے خطاب میں جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ پاکستان میں چوبیس لاکھ کیسز زیر التوا ہیں، 88 فیصد زیر التوا کیسز ضلعی عدالتوں میں ہیں۔ ہمارے پاس ججز کی تعداد کم ہے۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ عوامی سطح پر آگاہی ضروری ہے کہ ثالثی سمیت مختلف راستے موجود ہیں، تنازع کی صورت میں فوری عدالت آنے کے بجائے ثالثی کی کوشش کرنی چاہیے، اگر ثالثی سے مسئلہ حل نا ہو تو عدالت سے رجوع کیا جاناچاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالتی سسٹم عدالت سمیت دیگر طریقہ کار فراہم کرتا ہے، عدالتوں کی ہی انصاف کی فراہمی کا ذمہ دار نہیں سمجھنا چاہیے، ملک میں طریقہ رائج ہے کہ کسی کوبھی مسئلہ ہوتا ہے وہ عدالت سے اسٹے آرڈرلے لیتا ہے، ہر کوئی عدالت سے حکم امتناع حاصل کرے گا تو معیشت کیسے چلے گی۔ حکم امتناع اور ضمانتوں کی بنیاد پر قومیں ترقی نہیں کرتیں۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ پہلے داخلی طور پر تنازعات حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، انصاف تک رسائی تمام شہریوں کا حق ہے،ایسا فورم ہوجہاں مسئلہ حل ہوسکے، میڈیئشن، آربٹریشن سمیت دیگر آپشن موجود ہیں، تنازعات کا متبادل حل عدالتی نظام کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پراسیکیوشن کورٹسز میں 13 سے چودہ فیصد کیسز ہیں، پاکستان میں86فیصد کیسزڈسٹرکٹ کورٹس میں ہیں، مائنڈسیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ہرتنازع عدالت میں جاتاہے۔





















