پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کے خاتمے کے دو ٹوک اعلان کے باوجود حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان اجلاس میں پہنچ کر اپوزیشن کی راہ تکتے رہے۔ حکومتی ارکان 45 منٹ انتظار کرتے رہے مگر پی ٹی آئی نہ آئی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم اگر اجلاس میں آئے تو کچھ نہ کچھ تو لے کرآئے ہوں گے اگر تحریک انصاف والے آجاتے تو اپنا جواب دے دیتے۔ اسپیکرقومی اسمبلی ایاز صادق بولے اب مذاکرات کو آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔۔حکومت اور اپوزیشن سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی درخواست کردی۔
اسپیکرقومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ ہم نے تقریبا 45 منٹ انتظار کیا میسج بھی کیا جواب یہی آیا کہ لگتا ہے کہ وہ شاید میٹنگ میں نہ آئے اس لیے اس میٹنگ کو کنٹینیو کرنے کا کوئی مقصد نہیں بنتا تو میرے دروازے پھر بھی کھلے ہیں اور میں پھر اپوزیشن سے اور گورنمنٹ سے توقع رکھتا ہوں کہ مذاکرات کا راستہ نکالا جائے۔
ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی کے مطالبات کا جواب تیار کررکھا تھا مگر پی ٹی آئی کا رویہ غیرمناسب ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہماری مثبت سوچ ہے، ابھی بھی امید کرتا ہوں کہ اپوزیشن مذاکرات میں واپسی کےلیے اسپیکر صاحب سے رابطہ کرے گی اور پھر سپیکر صاحب کو نئی ڈیٹ طے کریں گے اور ہم پہ بیٹھ کے اس میں ان کے سوالوں کے جواب بھی دیں گے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکراتی کمیٹی کا پہلا اجلاس 23 دسمبر 2024 کو ہوا تھا تاہم تیسرا اجلاس ہی آخری ثابت ہوا۔ چوتھے اجلاس سے پہلے ہی بیرسٹرگوہر نے بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر مذاکراتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔





















