حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ اگر تحریک انصاف نے مذاکرات کے چوتھے دور میں شرکت نہ کی تو مذاکراتی کمیٹی تحلیل کرنے پر غور کریں گے۔
ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اپوزیشن کمیٹی نہ آئی تو اس کا مطلب ہوگا وہ مذاکرات نہیں چاہتے ۔ سات جماعتوں کے رہنماؤں کو بٹھا کر نہیں رکھ سکتے پھرکمیٹی تحلیل کرنے پر غور کریں گے ۔
عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ یہ طے نہیں ہوا تھا کہ کمیشن بننا ہے یا نہیں، تیسری میٹنگ کے اعلامیے میں بھی ایسی کوئی بات نہیں تھی ۔ اپوزیشن نے باہر جاکراعلان کردیا کہ پہلےکمیشن بنائیں، اپوزیشن جان لے مذاکرات کیلئے کوئی اور دروازہ نہیں کھلے گا۔ سیاسی مذاکرات سیاستدانوں سے ہی ہوتے ہیں۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کے مطابق تحریک انصاف آج ہونے والے مذاکراتی کمیٹیوں کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی۔
پی ٹی آئی نے اس سے قبل اجلاس میں شرکت کو 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل سے مشروط کیا تھا۔
تاہم بعد میں انہوں نے اپنے موقف میں تھوڑی لچک کا مظاہرہ کیا، اور اعلان کیا کہ اگر حکومت 28 جنوری سے پہلے عمران خان کے ساتھ اپنے ارکان کی میٹنگ کا اہتمام کرتی ہے تو کمیٹی اجلاس میں شرکت کر سکتی ہے، تاہم اس خبر کی اشاعت تک ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔
پی ٹی آئی نے چند روز قبل مذاکرات اس وقت ترک کر دیے تھے جب حکومت نے 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کو پارٹی کی جانب سے جیل میں بند عمران خان کی رہائی کے لیے کیے گئے مظاہروں کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کے مطالبے کا جواب نہیں دیا تھا۔





















