سال 2024 اختتام کو پہنچ گیا، گزشتہ برس کے دوران بہت سے واقعات دنیا کی توجہ کا مرکز اور شہ سرخیوں کی زینت بنے رہے، قدرتی آفات ، جنگ ہو یا معاشی بحران دنیا نے بہت سے مناظر اپنے ذہنوں پر نقش کیے ۔
دو ہزار چوبیس کئی لحاظ سے ہنگامہ خیزسال رہا، کہیں برسوں کے اقتدارکا خاتمہ ہوا تو کہیں دھتکارے ہوئے واپس اقتدار میں آئے، امریکی میں ٹرمپ کی تاریخ ساز واپسی ہوئی، 13 جولائی کو انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ ہوا، گولی ٹرمپ کی کان چھو کر گزر گئی۔ حملہ آور موقع پر مارا گیا۔
جوبائیڈن نے 31 جولائی کو صدارتی دوڑ سے دستبرداری کا اعلان کیا اور کاملا ہیرس کو امیدوار نامزد کردیا، 5 نومبر کو امریکا میں صدارتی انتخابات ہوئے، ڈونلڈ ٹرمپ کاملا ہیرس کو شکست دے کر دوسری بار صدر منتخب ہوگئے۔
دو ہزار چوبیس بنگلا دیش کے لیے بھی تبدیلی کا سال ثابت ہوا، 7 جنوری کو شیخ حسینہ واجد نام نہاد انتخابات میں پانچویں بار وزیراعظم منتخب ہوگئیں مگر ان کی کامیابی عارضی ثابت ہوئی۔ کوٹہ سسٹم کے خلاف طلبا تحریک نے ان کے اقتدار کی جھڑیں ہلا دیں۔ 5 اگست کو شیخ حسینہ ملک چھوڑ کر بھارت فرار ہوگئیں، اگلے دن نوبیل انعام یافتہ محمد یونس عبوری حکومت کی قیادت کے لیے پیرس سے ڈھاکا پہنچ گئے۔
غزہ جنگ 2024 میں انتہاؤں کو چھونے لگی،30 جولائی کو حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ تہران میں اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے، 17 ستمبرکو بیروت میں حزب اللہ کے اہلکاروں کے زیر استعمال ہزاروں پیجرز ایک ساتھ پھٹ گئے، دھماکوں سے 9 افراد چل بسے۔ 2 ہزار800 زخمی ہوئے۔ اگلے دن واکی ٹاکی میں دھماکوں سے 20 افراد جاں بحق اور 450 زخمی ہوئے۔
گزشتہ سال 23 ستمبر ستمبر کو اسرائیل نے لبنان پربراہ راست حملہ کردیا، 27 ستمبر کو 30 برس سے حزب اللہ کے سربراہ رہنے والے حسن نصر اللہ اسرائیلی بمباری میں شہید ہوگئے،17 اکتوبر کو حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار رفح میں اسرائیلی فوج کے ساتھ مقابلے میں شہید ہوگئے۔
شام میں 13برس کی خانہ جنگی کے بعد بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا گیا، اسد خاندان کے نصف صدی پر محیط اقتدار کا سورج غروب ہوگیا، 27 نومبر کو اپوزیشن فورسز نے پیشقدمی شروع کی۔ دس دن بعد دمشق میں داخل ہوگئے، بشار الاسد خاندان سمیت ملک سے فرار ہوکر ماسکو میں پناہ لے لی۔
سال بھر کئی قدرتی آفات ہزاروں ہلاکتوں کا باعث بنے، 16 اپریل کو متحدہ عرب امارات میں بارش کا پچھہتر برس کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، دبئی ایئرپورٹ پانی میں ڈوب گیا۔ عمان میں اٹھارہ افراد جان سے گئے۔ 19 مئی کو افغانستان میں سیلابوں سے ساڑھے چار سو شہری جاں بحق ہوگئے۔
گزشتہ سال 19 جون کو حج کے دوران 550 سے زائد حجاج گرمی اور ہیٹ اسٹروک کے باعث جاں بحق ہوگئے۔






















