قومی اسمبلی اجلاس میں وزرا کی ایوان میں عدم حاضری پر پیپلزپارٹی نے احتجاجاً واک آؤٹ کردیا۔
وزرا کی ایوان میں عدم حاضری پر پیپلزپارٹی نے ایوان میں احتجاج اور پھر واک آؤٹ کرگئے۔ پیپلزپارٹی کے ساتھ لیگی رکن حنیف عباسی نے بھی واک آؤٹ کیا۔
واضح رہے کہ دو روز قبل ہی وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وفاقی وزرا کی غیر حاضری کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں ایوان کی کارروائی میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزرا کی ایوان میں غیر حاضری کا نوٹس لیتے ہوئے تمام وفاقی وزرا کو خط لکھ دیا جس میں انہوں نے وزرا کو پارلیمانی کارروائی میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔
شہباز شریف نے خط میں کہا ہے کہ وفاقی وزرا کی ایوان میں غیر حاضری سے احتساب کے اصولوں اور شفافیت کے عمل کو نقصان پہنچتا ہے، وزرا کی ایوان میں حاضر نہ ہونے سے عوام کے جمہوری اداروں پر اعتماد کو بھی نقصان پہنچے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے اپنے خط میں مزید کہا کہ وزرا کا اپنے ماتحت افسران کو آئینی ذمہ داریاں دینا قابل قبول نہیں، یہ عمل وزرا کی جانب سے گورننس میں غیر سنجیدگی بھی ظاہر کرتی ہے۔
شہباز شریف نے آفیشل معاملات کے لیے پارلیمنٹ میں موجود وزرا کے چیمبر میں موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کردی جب کہ وزرا کو وقفہ سوالات اور ایوان میں بحث کے دوران دیگر میٹنگز میں عدم شرکت کی ہدایت بھی کی۔
واضح رہے کہ اسمبلی کے اجلاس سے مسلسل وفاقی وزرا غائب رہے جس پر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے علاوہ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے بھی تنقید کی تھی۔





















